نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 205
۱۸۴ جنگ صفین ہوئی۔امیر معاویہ کے خاندان میں ۶۴ ھ تک حکومت رہی۔اس کے بعد بنوامیہ کی سربراہی مروان کے حصہ میں آئی۔۶۵ ھ سے ۱۳۲ھ تک بنوامیہ کے گیارہ خلفاء ہوئے جن کا دارالخلافت دمشق تھا۔بنوامیہ کا یہ دور حکومت اسلامی فتوحات سے لبریز ہے۔اسی دور میں مشہور اسلامی فاتح عقبہ بن نافع ، موسیٰ بن نصیر ، طارق بن زیاد، قتیہ بن مسلم اور محمد بن قاسم ہوئے۔اس عہد میں اسلامی حکومت کی حدود مشرق میں سندھ اور ملتان سے لے کر مغرب میں اندلس اور فرانس تک اور شمال میں ترکستان و چین سے لے کر جنوب میں جزیرۃ العرب تک پھیلی ہوئی تھیں۔۱۳۲ھ میں عباسیوں نے بوحیر کی فتح کے بعد بنو امیہ کو چن چن کر قتل کیا۔صرف ایک خوش قسمت اموی شہزادہ عبدالرحمن بچ بچا کر اندلس جا پہنچا اور وہاں اس نے بنوامیہ کی ہسپانوی خلافت کی بنیاد رکھی۔بنوامیہ کی یہ خلافت ۱۳۸ھ سے ۴۲۸ ھ تک قائم رہی۔اس دور میں ۲۴ سلاطین گزرے۔جن میں بعض بڑے جلیل القدر حکمران تھے اور جن کے عہد حکومت میں ہسپانیہ تہذیب و تمدن کی انتہائی بلندیوں پر جا پہنچا۔قرطبہ اور دمشق کی رفیع الشان مساجد آج بھی بنوامیہ کے شاہانہ عروج و کمال کی یاد دلاتی ہے۔(اردو جامع انسائیکلو پیڈیا از عبدالوحید ص ۳۳۰،۳۲۹) خلافت عباسیہ حضرت عباس ابن عبدالمطلب ، آنحضرت ﷺ کے حقیقی چا کی اولاد کو بنو عباس کہتے ہیں۔سانحہ کربلا کے بعد اہل بیت کی خلافت کے حق میں ایک تحریک اٹھی۔جسے حضرت عبداللہ بن عباس کے پوتے محمد بن علی نے خوب منظم کیا۔۱۲۶ھ میں وہ انتقال فرما گئے اور اپنے تینوں بیٹوں ابراہیم، ابوالعباس اور ابوجعفر کو سلسلہ وار جانشین