نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 200
129 دے کر کہا کہ تیرا ہاتھ علی کا ہاتھ ہے اور میں تیرے ہاتھ پر حضرت علی کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۔غرض باقی صحابہ کے اختلاف کا تو جنگ جمل کے وقت ہی فیصلہ ہو گیا مگر حضرت معاویہ کا اختلاف باقی رہا یہاں تک کہ جنگ صفین ہوئی۔(خلافت راشده از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفة المسیح الثانی بحوالہ انوار العلوم جلد ۵ صفحه ۵ ۴۸۶،۴۸) جنگ صفین کے واقعات اس جنگ میں حضرت معاویہؓ کے ساتھیوں نے یہ ہوشیاری کی کہ نیزوں پر قرآن اٹھالئے اور کہا کہ جو کچھ قرآن فیصلہ کرے وہ ہمیں منظور ہے اور اس غرض کے لئے حکم مقرر ہونے چاہئیں۔اس پر وہی مفسد جو حضرت عثمان کے قتل کی سازش میں شامل تھے اور جو آپ کی شہادت کے معا بعد اپنے بچاؤ کے لئے حضرت علیؓ کے ساتھ شامل ہو گئے تھے انہوں نے حضرت علی پر یہ زور دینا شروع کر دیا کہ یہ بالکل درست کہتے ہیں۔آپ فیصلہ کے لئے حکم مقرر کر دیں۔حضرت علیؓ نے بہتیرا انکار کیا مگر انہوں نے اور کچھ ان کمزور طبع لوگوں نے جو ان کے اس دھوکا میں آگئے تھے حضرت علی کو اس بات پر مجبور کیا کہ آپ حکم مقرر کریں۔چنانچہ معاویہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص اور حضرت علی کی طرف سے حضرت ابوموسیٰ اشعری حکم مقرر کئے گئے۔یہ تحکیم دراصل قتل عثمان کے واقعہ میں تھی اور شرط یہ تھی کہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ ہوگا۔مگر عمر و بن العاص اور ابو موسیٰ اشعری دونوں نے مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ بہتر ہوگا کہ پہلے ہم دونوں یعنی حضرت علی اور حضرت معاویہ گوان کی امارت سے معزول کر دیں کیونکہ تمام مسلمان انہی دونوں کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا ہور ہے ہیں اور پھر آزادانہ