نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 197
۹ سال کی عمر میں اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔دوسرے صحابہ کی طرح حضرت علی کو بھی کفار کے ہاتھوں بہت سی تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔آنحضرت نے جب مدینہ ہجرت کی تو اپنے بستر پر حضرت علی کو سلا کر گئے تھے اور ان کے سپر د اپنے ذمہ واجب الادا امانتوں کو ادا کر کے مدینہ آنے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ آپ حسب ہدایت آنحضرت کی امانتیں متعلقہ لوگوں کے سپرد کر کے مدینہ ہجرت کر گئے۔حضرت علی کی جوانمردی اور بہادری بہت مشہور تھی۔غزوہ خیبر کا واقعہ آپ کی بہادری کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔عہد خلافت حضرت عثمانؓ کی شہادت کے ایک ہفتہ بعد حضرت علی کی بیعت کا سلسلہ شروع ہوا۔اس کے بعد آپ منبر پر تشریف لائے اور ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں فتنہ وفساد سے پر ہیز اور تقویٰ کی طرف توجہ دلائی۔خطبہ کے بعد صحابہ کی ایک جماعت ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ خلیفہ کا پہلا فرض یہ ہے کہ شرعی حدود کو قائم رکھے۔اس لئے جو لوگ حضرت عثمان کے قتل میں شریک تھے ان سے قصاص لیا جائے۔اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا کہ یہ درست ہے لیکن کچھ امن وامان ہو لینے دو۔یہ جواب سن کر لوگ واپس چلے گئے۔لیکن اس سے دو متضاد خیالات عوام کے دلوں میں پیدا ہونے لگے۔بعض نے تو اس جواب کو معقول سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی۔مگر بعض کا خیال یہ تھا کہ اگر باغیوں کی یہی حالت رہی تو