نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 189 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 189

۱۶۸ کی اور بعض نے صرف یہ اعتراض کیا کہ حضرت عمر کی طبیعت میں سختی زیادہ ہے ایسا نہ ہو کہ لوگوں پر تشدد کریں۔آپ نے فرمایا یہ خی اس وقت تھی جب تک ان پر کوئی ذمہ داری نہیں پڑی تھی اب جبکہ ایک ذمہ داری ان پر پڑ جائے گی ان کی سختی کا مادہ بھی اعتدال کے اندر آجائے گا۔چنانچہ تمام صحابہ حضرت عمرؓ کی خلافت پر راضی ہو گئے۔آپ کی صحت چونکہ بہت خراب ہو چکی تھی اس لئے آپ نے اپنی بیوی اسماء کا سہارا لیا اور ایسی حالت میں جبکہ آپ کے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔آپ مسجد میں آئے اور تمام مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت دنوں تک متواتر اس امر پر غور کیا ہے کہ اگر میں وفات پا جاؤں تو تمہارا کون خلیفہ ہو۔آخر بہت کچھ غور کرنے اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد میں نے یہی مناسب سمجھا کہ عمر کو خلیفہ نامزد کر دوں۔سو میری وفات کے بعد عمر تمہارے خلیفہ ہوں گے۔سب صحابہ اور دوسرے لوگوں نے اس امارت کو تسلیم کیا اور حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کی بیعت ہوگئی۔( تاریخ ابن اسیر جلد ۲ صفحه ۴۲۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵) مختصر سوانح عمر حضرت عمر کا تعلق بھی قبیلہ قریش سے تھا اور ساتویں پشت میں آپ کا نسب آنحضرت سے جاملتا ہے۔آپ کا خاندان قبیلہ بنو قریش میں بڑا ذی وجاہت اور شرافت کا پیکر تھا۔آپ کی ولادت آنحضرت کی ولادت سے ۱۳ سال بعد ہوئی۔آپ کا اصلی نام عمر اور لقب فاروق ہے جو آنحضرت نے انہیں عنایت کیا تھا۔حضرت عمرؓ نسب دانی ، پہلوانی اور گھوڑ سواری کے بڑے ماہر تھے۔اس زمانے