نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 185
۱۶۴ محمدیہ میں وحدت قائم رہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی وفات سے پہلے ہی بعض انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور یہ سوچنا شروع کیا کہ اپنے میں سے کسی کو امیر بنالیں۔جب اس صورتحال کا حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراغ کو علم ہوا تو وہ بھی سقیفہ بنی ساعدہ پہنچ گئے۔اور انصار کے اس ارادہ کی مخالفت کی۔اس موقع پر دو فریق ہو گئے۔ایک انصار کا اور ایک مہاجرین کا۔انصار چاہتے تھے کہ خلافت ان کے حصہ میں آئے ان کی دلیل یہ تھی کہ رسول کریم۔تیرہ سال تک اپنی قوم میں رہ کر اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے۔لیکن اس عرصہ میں بہت تھوڑے لوگوں نے آپ کو تسلیم کیا۔اس کے بعد جب آپ نے ہجرت فرمائی تو انثار کثیر تعداد میں آپ پر ایمان لائے اور اس طرح انہوں نے اسلام کو تقویت پہنچائی۔وہ ہر جنگ میں آپ کے دوش بدوش لڑے اور کسی دشمن کی یہ مجال نہ ہوئی کہ وہ آپ کو نقصان پہنچا سکتا۔یہاں تک کہ بالآخر سارا عرب آپ کا حلقہ بگوش ہو گیا۔اس وجہ سے حضور وفات تک انصار سے بہت خوش تھے۔لہذا خلافت کا زیادہ حق انصار کو حاصل ہے۔اس کے برعکس مہاجرین یہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے جس کی وجہ سے ہمیں شدید ترین مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔اور ہر قسم کی قربانیاں دینی پڑیں۔کوئی ظلم نہ تھا کہ جس کا ہمیں تختہ مشق نہ بننا پڑا ہو۔گو ہماری تعداد تھوڑی تھی لیکن ہم نے کسی موقع پر بھی گھبراہٹ اور بے دلی کا اظہار نہیں کیا۔اس کے علاوہ ہم رسول کریم کے ہم قوم اور آپ کے اہل خاندان ہیں۔عرب اگر مطیع ہو سکتے ہیں تو صرف قریش ہی کے ہو سکتے ہیں۔اس لئے خلافت کے اصل حقدار ہم ہی ہیں۔اس نزاع کو طول پکڑتے دیکھ کر انصار نے ایک تجویز یہ پیش کی کہ ایک امیر ہم