نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 176
۱۵۵ اس دستبرداری کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جس میں آپ نے امام حسنؓ کی ایک امتیازی خوبی بیان کی تھی۔اور امت محمدیہ پھر ایک نقطہ پر جمع ہو گئی۔ان دو مثالوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دستبرداری کا سوال حالات پر چھوڑا گیا ہے یعنی یہ کہ اگر خلافت کا استحکام ہو چکا ہو جیسا کہ حضرت عثمان کے معاملہ میں ہو چکا یا یہ که اگر دستبرداری کے متعلق لوگوں کی طرف سے خواہش یا مطالبہ ہو تو وہ ناپسندیدہ بلکہ ناجائز ہے۔لیکن اگر قبل استحکام خلافت جیسا کہ امام حسنؓ کے معاملہ میں پایا جاتا ہے کسی اعلیٰ غرض کے حصول کے لئے خلیفہ اپنی خوشی سے اپنی خلافت سے دستبردار ہو جانا مناسب خیال کرے تو اس کے لئے کوئی امر مانع نہیں ہے۔اس جگہ یہ ذکر ضروری ہے کہ یہ خیال جو ہم نے یہاں ظاہر کیا ہے یہ اسلام کا کوئی فیصلہ یا عقیدہ نہیں ہے بلکہ محض ایک رائے ہے جو واقعات سے نتیجہ نکال کر قائم کی گئی ہے۔واللہ اعلم (سلسلہ احمدیہ ص ۶۳۸، ۶۳۹- از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے) خلافت اور شوریٰ قرآن کریم نے مثالی اسلامی معاشرہ کا تصور پیش کرتے ہوئے جو مختلف راہنما اصول بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک باہمی مشورہ کا اصول بھی ہے۔جیسا کہ فرمایا:۔وَآمُرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ۔(شوری: ۳۹) اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آنحضرت کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:۔وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (آل عمران: ١٦٠)