نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 164
۱۴۳ (۱) خلافت بمعنی نیابت ہے اور رسول کریم ﷺ کے بعد آپ کا کوئی نائب ہونا چاہئے۔مگر اس کا طریق یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلہ کے مطابق یا خلیفہ کے تقرر کے مطابق جسے امت تسلیم کرے وہ شخص خلیفہ مقرر ہوتا ہے اور وہ واجب الاطاعت ہوتا ہے۔یہ سنی کہلاتے ہیں۔(۲) حکم خدا کا ہے۔کسی شخص کو واجب الاطاعت ماننا شرک ہے۔کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے اور مسلمان آزاد ہیں وہ جو کچھ چاہیں اپنے لئے مقرر کریں۔یہ خوارج کہلاتے ہیں۔(۳) انسان امیر مقرر نہیں کرتے بلکہ امیر مقرر کر نا خدا کا کام ہے اسی نے حضرت علی کو امام مقرر کیا اور آپ کے بعد گیارہ اور امام مقرر کئے۔آخری امام اب تک زندہ موجود ہے مگر مخفی۔یہ شیعہ کہلاتے ہیں۔ان میں سے ایک فریق ایسا نکلا کہ اس نے کہا۔دنیا میں ہر وقت زندہ امام کا ہونا ضروری ہے جو ظاہر بھی ہو اور یہ اسماعیلیہ شیعہ کہلاتے ہیں۔خلافت کے بارہ میں مذکورہ بالا تیسر انظریہ اہل تشیعہ کا ہے۔جب حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان جنگ صفین کا معرکہ ہوا۔جس کے نتیجہ میں نظریہ نمبر ۲ نے جنم لیا۔یہ خلافت کے بارہ میں پہلا اختلاف تھا جو واقع ہوا۔اس موقعہ پر جولوگ حضرت علی کی تائید میں تھے انہوں نے ان امور کا جواب دینا شروع کیا اور جواب میں یہ امر بھی زیر بحث آیا کہ رسول کریم ﷺ کی بعض پیشگوئیاں حضرت علی کے متعلق ہیں۔یہ پیشگوئیاں جب تفصیل کے ساتھ بیان ہونی شروع ہوئیں تو ان پر غور کرتے ہوئے بعض غالیوں نے یہ سوچا کہ خلافت پر کیا بحث کرنی ہے۔ہم کہتے ہیں حضرت