نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 150
۱۲۹ عظمت وسطوت والا نیا آسمان پیدا کریں گے۔لیکن شرط یہی ہے کہ کامل فرمانبرداری کرو جب تم سے مشورہ مانگا جائے مشورہ دو ورنہ چپ رہو۔ادب کا مقام یہی ہے لیکن اگر تم مشورہ دینے کے لئے بیتاب ہو تو بغیر پوچھے بھی دے دو۔مگر عمل وہی کرو جس کی تم کو ہدایت دی جائے ہاں صحیح اطلاعات دینا ہر مومن کا فرض ہے اور اس کے لئے پوچھنے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔باقی عمل اس کے بارہ میں تمہارا فرض صرف یہی ہے کہ خلیفہ کے ہاتھ اور اس کے ہتھیار بن جاؤ۔تب ہی برکت ہی برکت حاصل کرسکو گے اور سب ہی کامیابی نصیب ہوگی۔اللہ تعالیٰ تم کو اس کی توفیق بخشے۔(روز نامه الفضل قادیان ۴ ستمبر ۱۹۳۷ء) شاہ اسماعیل شہیدا اپنی معروف تصنیف منصب امامت میں جیسا کہ عنوان کتاب سے ظاہر ہے خلیفہ کے مقام ومرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔لازم ہے کہ احکام کے اجراء اور مہمات کا انجام امام کے سپرد کیا جائے اور اس سے قیل و قال اور بحث و جدال نہ کی جائے اور کسی مہم میں خود بخو دا قدام نہ کیا جائے۔اس کے حضور میں زبان بند رکھیں اور اپنی رائے سے سرانجام مقدمات میں دخل نہ دیں اور کسی طرح بھی اس کے سامنے استقلال کا دم نہ ماریں۔منصب امامت ص ۱۲۹- از شاه اسمعیل شہید مترجم حکیم محمد حسین علوی مطبوعہ حاجی حنیف اینڈ سنز لا ہور ) قرب خداوندی کے لئے خلیفہ وقت کی اطاعت ضروری ہے۔نیز فرمایا : ”امام وقت سے سرکشی اور روگردانی گستاخی کا باعث ہے اور اس کے ساتھ بلکہ خود رسول کے ساتھ ہمسری ہے اور خفیہ طور پر خود رب العزت پر اعتراض ہے کہ ایسے ناقص شخص کو کامل شخص کی نیابت کا منصب عطا ہوا۔الغرض اس کے توسل کے بغیر تقرب الہی محض وہم وخیال ہے جو سراسر باطل اور محال ہے۔منصب امامت ص ۱۱۱ از شاه اسمعیل شہید مترجم حکیم محمد حسین علوی مطبوعہ حاجی حنیف اینڈ سنز لاہور )