نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 149
۱۲۸ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاتا ہوں، ہزار وقعہ کوئی کہے کہ میں احمد بہت پر ایمان رکھتا ہوں ، خدا کے حضوران دعوں کی کوئی قیمت نہیں ہوگی۔جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں ( دین حق ) قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہے ہو سکتا“۔(الفضل ۱۵نومبر ۱۹۴۶ء) وہی سکیم وہی تجویز اور تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہو۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:۔خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں ، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں نا کام ہیں۔( خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۳۶ء مندرجہ الفضل ۳۱ جنوری ۱۹۳۶ء) اسی طرح آپ نے فرمایا: اور اگر تم کامل طور پر اطاعت کرو تو مشکلات کے بادل اڑ جائیں گے۔تمہارے دشمن ہو جائیں گے اور فرشتے آسمان سے تمہارے لئے ترقی والی نئی زمین اور تمہاری