نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 132
= حضرت شاہ ولی اللہ اس تعلق میں لکھتے ہیں کہ :۔آیت لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ کے معنی یہ ہیں اللہ تعالیٰ خلفاء کو مقرر فرماتا ہے جب اصلاح عالم کے لئے کسی خلیفہ کی ضرورت محسوس کرتی ہے تو لوگوں کے دلوں میں الہاماً ڈال دیتا ہے کہ وہ ایسے شخص کو خلیفہ مقرر کریں جسے اللہ تعالیٰ خود خلیفہ بنانا چاہتا ہے (ازالة الخفاء عن الخلفاء از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدیمی کتب خانه آرام باغ کراچی) خلافت سے وابستگی جن اغراض و مقاصد کے پیش نظر نظام خلافت جاری کیا گیا ہے وہ تبھی پورے ہو سکتے ہیں جب نظام خلافت کے ساتھ کماحقہ وابستگی اختیار کی جائے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے انکار کو فسق قرار دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ آیت استخلاف میں نظام خلافت کے اغراض و مقاصد اور برکات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے:۔وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ۔(نور: ۵۶) یعنی اور جو کوئی اس کے بعد ( خلافت ) کا انکار کریں گے پس وہ لوگ فاسق و فاجر قرار پائیں گے۔جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جب مومنوں کو یہ ارشاد فرمایا کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُم مُسْلِمُون۔(آل عمران: ۱۰۳) کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اس کی تمام شرائط کے ساتھ اختیار کرو اور تم پر صرف ایسی حالت میں موت آئے کہ تم پورے فرمانبردار ہو۔تو اس کے حصول کے لئے جو حقیقی ذریعہ ہے اس کو فوراً اگلی آیت میں بیان فرما دیا