نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 122 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 122

1+1 و عدل کی حیثیت سے مامور تھے کیا خوب فرمایا:۔آنحضرت نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا۔اس میں بھید تھا کہ آپ کوخوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرمائے گا کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہے اور خدا کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے اول حق انہی کے دل میں ڈالا۔( الحکم ۱۴ارا پریل ۱۹۰۸ء ) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مسئلہ کی حقیقت کو الم نشرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھا دے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی ہے (حضور نے الہام الہی سے اپنی وفات کی خبر سے جماعت کو آگاہ فرمایا تھا۔ناقل ) غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے بہتر ہے کیونہ وہ دائمی ہے۔جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں کا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی“۔الوصیت ص ۳۰۶،۳۰۵ روحانی خزائن جلد ۲۰) اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک قدرت ثانیہ سے مراد خلافت ہی ہے۔چنانچہ اسی رسالہ الوصیت میں حضور نے فرمایا ہے:۔