نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 119 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 119

۹۸ اورس عالمی منصب پر تقرری در اصل خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں:۔وَقَدِ اسْتَخْلَفَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ خَلِيفَةً لِيَجْمَعَ بِهِ الْفَتكُمْ وَيُقِيمَ بِهِ كَلِمَتَكُمْ۔کہ خدا تعالیٰ نے مجھے تم پر ایک خلیفہ مقرر کر دیا ہے تا کہ تمہاری باہمی الفت و اخوت کے ذریعہ شیرازہ بندی ہو اور اس کے ذریعہ تمہارا کام قائم رہے۔(دائرة المعارف مطبوعه مصر جلد ۳ ص ۷۵۸) حضرت ابو بکر کو تو علم تھا کہ حضور کی وفات کے بعد لوگوں کا اجتماع ہوا، مشورہ ہوا، بلکہ اختلاف ہوا اور پھر صحابہ نے آپ کی بیعت خلافت کی۔بایں ہمہ حضرت ابوبکر خدا تعالیٰ کے رسول کا پیارا ساتھی، دکھ سکھ میں ساتھ رہنے والا ، سب سے اول ایمان لانے والا ، خدائی حکمتوں اور خدائی باتوں کو خدا کے رسول کے بعد سب سے زیادہ سمجھنے والا یہ اعلان کرتا ہے کہ قَدِ اسْتَخْلَفَ اللهُ عَلَيْكُمُ کہ خدا تعالیٰ نے تم پر مجھ کوخلیفہ مقرر کر دیا ہے۔یہ نہیں فرماتے کہ تم نے مجھ پر احسان کیا اور خلیفہ بنایا بلکہ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے تمہارا خلیفہ مقرر کر دیا ہے۔اب آگے چلئے۔حضرت عمر کیا فرماتے ہیں:۔۔مَنْ اَرَادَ اَنْ يَّسْتَلَ عَنِ الْمَالِ فَلْيَأْتِنِي فَإِنَّهُ جَعَلْنِي خَازِنًا وَّ قَاسِمًا۔(تاريخ عمر بن الخطاب ص۸۷) جس شخص نے مال کے متعلق سوال کرنا ہے تو وہ میرے پاس آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنا کر قوم کے مال کا خازن مقرر فرمایا ہے اور اس کو تقسیم کرنے کا حق بخشا ہے۔حضرت عمر کے اس قول سے ظاہر ہے کہ وہ اس یقین پر قائم تھے کہ خدا تعالیٰ نے