نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 116
پس خلیفہ بنانے کی نسبت خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی طرف ہی کی ہے خواہ وہ خلیفہ نبی ہو یا غیر نبی۔چنانچہ فرمایا کہ ہم خلیفہ بناتے ہیں۔خلیفہ بنانا انسانوں کا کام نہیں۔اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بعد اب ہم دیکھتے ہیں خدا کے رسول اور نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اس بارہ میں کیا فیصلہ ہے۔احادیث نبویہ (۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو حضرت رسول اکرم ﷺ کی زوجہ مطہرہ اور علم دین کی نابغہ تھیں اور جن سے دین کے علم کو سیکھنے کا ارشاد خود حضور علی نے فرمایا۔ان کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان سے ایک دفعہ ایک ذکر فرمایا:۔لَقَدْ هَمَمْتُ اَوْاَرَدْتُ اَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَ ابْنِهِ فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُوْنَ اَوْيَتَمَنَّى الْمُتَمَتُّونَ ثُمَّ قُلْتُ يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ اَوْ يَدْفَعُ اللهُ وَ يَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ۔بخاری کتاب الاحکام باب الاستخلاف) میں نے ارادہ کیا تھا کہ ابو بکر اور ان کے بیٹے کو بلا کر ان کے حق میں خلافت کی تحریر لکھ دوں تا کہ میری وفات کے بعد دوسرے لوگ خلافت کی خواہش لے کر نہ کھڑے ہو جائیں اور کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ میں حضرت ابوبکر کی نسبت زیادہ خلافت کا حقدار ہوں۔مگر پھر میں نے اس خیال سے اپنا ارادہ ترک کر دیا کہ اللہ تعالیٰ ابو بکر کے سوا کسی اور کی خلافت پر راضی نہ ہوگا اور نہ ہی مومنوں کی جماعت کسی اور شخص کی خلافت کو قبول کرے گی۔اس حدیث نبوی سے واضح ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق کے حق میں اس لئے وصیت نہیں لکھوائی کہ آپ جانتے تھے کہ خلیفہ خدا