نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 115
۹۴ بنا نا خدا کا کام ہے اور امت مسلمہ میں بھی خلافت کے منصب کو وہ خود ہی قائم فرمائے گا اور اس منصب کا جس کو وہ سزاوار اور اہل سمجھے گا اسے خود ہی اس منصب پر فائز فرمائے گا۔پھر ان خلفاء کے مقرر کرنے کی غرض یہ بیان فرماتا ہے:۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دِيْنَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا یعنی ان خلفاء کے ذریعہ دین کو ضرور مضبوط کرتا ہے اور ضرور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کر دیتا ہے۔تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ اگر چہ حضرت رسول کریم ﷺ کے وصال پر صحابہ کا اجتماع ہوا، مشورہ ہوا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب خلافت کے منصب کے لئے ہوا۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے شک یہ انتخاب مومنوں نے کیا لیکن ابوبکر صدیق کو خلافت کے جلیل القدر منصب پر میں نے ہی فائز کیا اور انہیں خلیفہ میں نے ہی بنایا۔ساری امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ آیت لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ کے مصداق سب سے اول حضرت ابو بکر صدیق ہوئے اور خدا تعالیٰ نے ان کی خلافت کے قیام کو اپنی طرف نسبت دی۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ضرور وہ خود ان نیک لوگوں میں سے کسی کو خلیفہ بنائے گا اور ان کے دین کو وہ تمکنت ، استحکام اور عظمت بخشے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا کہ:۔' تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھلایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فر مایا تھا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنَّا یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے“۔(الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه۳۰۵)