نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 112
۹۱ خلافت کا انکار کفر ہے اللہ تعالیٰ آیت استخلاف میں نظام خلافت کے اغراض و مقاصد اور برکات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے و من کفر بعد ذلک فاولئک هم الفاسقون (النور:۵۶) اور جو کوئی اس کے بعد بھی ( نظام خلافت ) کا انکار کرے گا پس وہ نافرمان اور فاسق قرار پائے گا۔حضرت مصلح موعود اس تعلق میں فرماتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو خلفاء کا انکار کرتا ہے وہ فاسق ہے اور خلافت کو اپنی نعمت قرار دیتا ہے اس نعمت کو چھوڑ نا تو جائز نہیں“ آئینہ صداقت۔انوار العلوم جلد ۶ ص ۲۴۱) اسی طرح حضرت مصلح موعود خلافت راشدہ میں خلافت کے انکار کا ایک خطرناک نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ خلافت کے انکار کرنے کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ محمد رسول الله کی حکومت مذہبی نہیں تھی۔اور خواہ اس خیال کو مسلمانوں کی مخالفت کے ڈر سے کیسے ہی نرم الفاظ میں بیان کیا جائے صرف خلفاء کے نظام سلطنت کو ہی مذہبی سے نہیں گرانا پڑتا بلکہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اس حصہ کے متعلق بھی جو امور سلطنت کے انصرام کے ساتھ تعلق رکھتا تھا کہنا پڑتا ہے کہ وہ محض ایک دنیوی کام تھا جسے وقتی ضرورتوں کے ماتحت آپ نے اختیار کیا ورنہ نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کو مستقی کرتے ہوئے نظامی حصہ آپ نے لوگوں کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے اور آپ کی طرف سے اس بات کی کھلی اجازت ہے کہ اپنی سہولت کے لئے جیسا نظام کوئی چاہے پسند