نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 108 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 108

۸۷ حصہ ہے، کی ایک کڑی ہیں۔اس لئے عہدیدار کو بڑی محنت سے، ایمانداری سے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے کام کو سرانجام دینا چاہئے۔یہ جو خدمت کے مواقع دیئے گئے ہیں یہ حکم چلانے کے لئے نہیں دیئے گئے بلکہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے ہیں“۔(ہفت روزہ الفضل انٹر نیشنل لندن ۱۵ جولائی ۲۰۰۵ء) ۸۔خلافت کے ساتھ کچی محبت خلافت کے تعلق میں ہماری ایک بنیادی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم خلافت کے ساتھ کچی محبت پیدا کریں اور خلافت کے ساتھ ہمارا تعلق کامل وفا اور کچی عقیدت کا ہو۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔قدرت ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کومتحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے۔یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوتی ہے۔اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں۔اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو دین حق کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں۔اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں۔امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں اور وہی آپ کے لئے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابل کے لئے ایک ڈھال ہے۔پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت