نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 61 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 61

۴۰ دیکھتے ہی دیکھتے سب فتنے زیرنگیں ہو گئے اور خرمن اسلام ان بگولوں کی زد سے پوری طرح محفوظ و مامون رہا۔صرف ایک واقعہ کا معین ذکر کرتا ہوں۔رسول مقبول ﷺ نے اپنے وصال سے قبل حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک لشکر جرار شام کی طرف بھیجنے کا ارشاد فرمایا۔لشکر ابھی روانہ بھی نہ ہوا تھا کہ آپ کا وصال ہو گیا۔حالات میں ایک دفعہ تغیر پیدا ہو گیا۔بدلے ہوئے حالات میں بظاہر اس لشکر کو روک لینا ہر لحاظ سے قرین مصلحت نظر آتا تھا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جن کی سیاسی بصیرت اور جرأت کا لوہا ایک دنیا مانتی ہے دربار خلافت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اے خلیفۃ الرسول ! حالات کا تقاضا ہے کہ اس لشکر کے بارہ میں کچھ تبدیلی کر دی جائے۔مرکز کی حفاظت کے خیال سے اس لشکر کو روک لیا جائے۔خلافت حقہ کی برکت اور عظمت کا اندازہ لگائیے کہ وہ جسے رقیق القلب سمجھ کر کمزور خیال کیا جاتا تھا، وہاں وہی ابوبکر جسے اب خدا تعالیٰ نے خلافت کا منصب عطا فر ما دیا تھا آپ کا جواب یہ تھا کہ اس لشکر کو روکنے کا کیا سوال ، خدا کی قسم ! اگر پرندے میرے گوشت کو نوچ نوچ کر کھانا شروع کر دیں تو تب بھی میں اپنی خلافت کا آغاز کسی ایسی بات کو روکنے سے نہیں کروں گا جس کا حکم رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی میں دے چکے ہیں۔جو بات خدا کا رسول کہہ چکا ہے وہ آخری اور اٹل ہے۔یہ لشکر جائے گا اور ضرور جائے گا، اور کوئی صورت نہیں کہ اس لشکر کوروکا جائے۔صحابہ نے پھر با ادب عرض کیا کہ کم از کم لشکر کی روانگی میں کچھ تاخیر کر دی جائے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بھی ناممکن ہے مجھے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اگر مدینہ کی عورتوں کی نعشوں کو کتے مدینہ کی گلیوں میں