نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 466
۴۴۵ تشکر تھا۔اس دن جماعت کا ہر چھوٹا بڑا ، مرد و عورت خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا۔خلافت احمدیہ کی پہلی صدی کو الوداع اور نئی صدی کا استقبال اس کے لئے خوش قسمتی اور بڑے بڑے انعامات سے کم نہیں تھا۔اس دن ہر فر د جماعت نے نئے کپڑے پہنے اور اہتمام کے ساتھ تیار ہوئے۔ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔پاکستان بھر کی جماعتوں نے جلسہ ہائے خلافت جوبلی منعقد کئے۔اس کے ساتھ ساتھ بیوت الذکر اور گھروں کی سجاوٹ اور ہر جماعت نے مرکزی طور پر کھانا پکوا کر ہرگھر میں فی کس کے حساب سے تقسیم کیا اور اپنے اپنے طریق پر خلافت سے محبت ، فدائیت اور وابستگی کا بے مثال اظہار کیا۔تمام بیوت الذکر میں 27 مئی کے دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوا۔اس حوالے سے تیاریاں اس دن سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھیں۔بيوت الذکر اور گلی کوچوں کی صفائی اجتماعی و قارعمل کے ذریعہ خدام واطفال نے کی۔مرکزی طور پر بکروں کا صدقہ دیا گیا اور دارالضیافت کے انتظام کے تحت مختلف پاکستان کی اور بیرون ممالک کی جماعتوں اور انفرادی احباب نے 150 بکرے صدقہ کے طور پر دیے۔اس موقع پر انتظامیہ دارالضیافت کی طرف سے تینوں اوقات کے کھانوں کا سپیشل مینیو رکھا گیا گیا تھا۔28 مئی کی رات کو ربوہ بھر کے تقریباً تمام گھروں پر جھنڈیاں سجا کر اور مٹی کے دیے جلا کر چراغاں کیا گیا۔کئی لاکھ جھنڈیاں جن کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، نیز دیوں کی تعداد بھی لاکھوں میں تھی۔ربوہ کے گلی کوچوں میں چاروں طرف تاحد نگاہ گھروں کے