نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 465 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 465

۴۴۴ تعلق رکھتے ہیں۔نوک قلم ان کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔خاص طور پر وہ لمحہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جب حضور انور نے ساری جماعت کیا مرد، کیا عورتیں، بچے اور بچیاں سب کو کھڑے کروا کر دوسری صدی کے آغاز پر عہد لیا کہ اس عہد میں شامل ہونے والے سب افراد کے دل کی دنیا ہی بدل گئی وہ گویا اندر تک دھل گئے اور ایک نئے جوش و جذبے اور روحانی کیفیات میں نہا گئے۔یہ جماعت کی خوش قسمتی ہے کہ اسے خلیفہ المسیح کی شکل میں ایک ایسادردمند اور دعا گو وجود نصیب ہوا ہے جو ہر دکھ درد اور مصیبت میں ان کا سہارا اور ہر خوشی میں ان کے ساتھ برابر کا شریک ہوتا ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جو آج سوائے جماعت احمدیہ کے دنیا کے کسی اور نظام میں لوگوں کو میسر نہیں۔خلافت کے دربار سے سوالی دعاؤں کے خزانے سے جھولیاں بھرتے ہیں۔حضور انور کا یہ خطاب ایک گھنٹہ تینتالیس منٹ تک جاری رہا۔جس کے بعد افریقن ، بنگالی ، انگریزی اور اردو زبانوں میں نظمیں پڑھی گئیں۔حضور انور از راہ شفقت اس دوران جلسہ گاہ میں تشریف فرما ر ہے۔اسی طرح حضور انور لجنہ جلسہ گاہ بھی تشریف لے گئے جہاں حضور انور نے بچیوں سے نظمیں سنیں اس موقع پر سٹیج خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔صحیح کے پیچھے ایک بڑی فلیکس کے اوپر کلمہ طیبہ، درمیان میں چاند اور اس کے نیچے پانچ ستارے نیلے رنگ کے بیک گراؤنڈ پر خوبصورتی سے بنائے گئے تھے۔دوسری طرف اہل پاکستان خاص طور پر ربوہ کے باسیوں نے اپنے اپنے انداز میں خلافت جوبلی میں دعائیں کرتے ہوئے اور خوشیاں منا کر شرکت کی۔ان کی قلبی کیفیات اور جذبات کا اظہار خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوکر اس کے آستانہ پر اظہار