نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 45
۲۴ اور اسے مجیب الدعوات سے طلب کرتے رہنا چاہئے اور اپنی دعا کی قبولیت کی امید رکھنا اور خلیفہ راشد کی جستجو میں ہر وقت ہمت صرف کرنا چاہئے۔شاید یہ نعمت کا ملہ اسی زمانہ میں ظہور فرمادے اور خلافت راشدہ اس وقت ہی جلوہ گر ہو جاوے“۔(منصب امامت ص ۸۶ - گیلانی پریس ہسپتال روڈ لاہور مطبوعہ ۱۹۴۹ء)۔مشہور صحافی م ش تحریر کرتے ہیں کہ :۔”پاکستان کے مقاصد کی تکمیل پارلیمانی یا صدارتی نظام ہائے حکومت رائج کرنے سے نہیں بلکہ خلافت کے قیام سے ہی کی جاسکتی ہے۔( روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۱ مارچ ۱۹۶۷ء )۔اہل قرآن کے لیڈر غلام احمد صاحب پرویز لکھتے ہیں:۔”ہمارے لئے کرنے کا کام یہ ہے کہ پھر سے خلافت علی منہاج رسالت کا سلسلہ قائم کیا جائے جو امت کو احکام و قوانین خداوندی کے مطابق چلائے۔(ماہنامہ طلوع اسلام مارچ ۱۹۷۷ ء ص ۶) ۴۔اہلحدیث کا ترجمان رسالہ تنظیم اہلحدیث لکھتا ہے:۔اگر زندگی کے ان آخری لمحات میں ایک دفعہ بھی خلافت علی منہاج النبوۃ کا نظارہ نصیب ہو گیا تو ہو سکتا ہے کہ ملت اسلامیہ کی بگڑی سنور جائے اور روٹھا ہوا خدا پھر سے مان جائے اور بھنور میں گھری ہوئی ملت اسلامیہ کی یہ ناؤ شاید کسی طرح اس کے نرغے سے نکل کر ساحل عافیت سے ہمکنار ہو جائے ورنہ قیامت میں خدا ہم سے پوچھے گا کہ دنیا میں تم نے ہر ایک اقتدار کے لئے زمین ہموار کی۔کیا اسلام کے غلبہ اور قرآن کریم کے اقتدار کے لئے بھی کچھ کیا ؟ (هفت روز تنظیم اہلحدیث لاہور ۲ استمبر ۱۹۲۹ء)