نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 425
۴۰۴ متعلق اسلام نے کوئی خاص شرط یا حد بندی مقرر نہیں کی بلکہ اس قسم کے فروعی سوالات کو وقتی حالات پر چھوڑ دیا ہے اور ظاہر ہے کہ مختلف قسم کے حالات میں مشورہ اور انتخاب کی صورت مختلف ہوسکتی ہے اور اس اصل کے ماتحت اگر بنظر غور سے دیکھا جاوے تو حضرت عمر کی خلافت کا معاملہ یوں طے ہوا تھا کہ جب حضرت ابوبکر جو ایک منتخب شدہ خلیفہ تھے فوت ہونے لگے تو چونکہ اس وقت تک ابھی فتنہ ارتداد کے اثرات پوری طرح نہیں مٹے تھے اور خلافت کا نظام بھی ابھی ابتدائی حالت میں تھا۔حضرت ابو بکر نے یہ دیکھتے ہوئے کہ آئندہ خلافت کے لئے سب سے زیادہ موزوں اور اہل شخص حضرت عمرؓ ہیں اور یہ کہ اگر خلیفہ کے انتخاب کو رائے عامہ پر چھوڑ دیا گیا تو ممکن ہے کہ حضرت عمرا اپنی طبیعت کی ظاہری سختی کی وجہ سے انتخاب میں نہ آسکیں اور امت محمدیہ میں کسی فتنہ کا دروازہ کھل جاوے، اہل الرائے صحابہ کو بلا کر ان سے مشورہ لیا اور اس مشورہ کے بعد حضرت عمرؓ کو جن کا حضرت ابو بکڑ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں تھا بلکہ قبیلہ تک جدا تھا اپنا جانشین مقرر کر دیا۔حالانکہ اس وقت حضرت ابو بکر کے اپنے صاحبزادے اور دیگر اعزہ واقارب کثرت کے ساتھ موجود تھے۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ صورت ایسی ہے کہ اسے ہر گز مشورہ اور انتخاب کی روح کے منافی نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ اول تو حضرت ابو بکڑ نے یہ فیصلہ خود بخود نہیں کیا بلکہ اہل الرائے صحابہ کے مشورہ کے بعد کیا تھا۔دوسرے حضرت ابو بکر خود ایک منتخب شدہ خلیفہ تھے جس کی وجہ سے گویا ان کا ہر فیصلہ قوم کی آواز کا رنگ رکھتا تھا اور پھر انہوں نے اپنے کسی عزیز کو خلیفہ نہیں بنایا بلکہ ایک بالکل غیر شخص کو خلیفہ بنایا جس کے معاملہ میں یہ امکان نہیں ہو سکتا تھا کہ لوگ خلیفہ وقت کی قرابت کا لحاظ کر کے مشورہ میں کمزوری دکھائیں گے۔اس صورت میں ہرگز یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ مشورہ اور انتخاب کے طریق کو تو ڑا گیا ہے۔