نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 356 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 356

۳۳۵ خدمت ادا کرتے ہیں، دوسرے مسلمان نہیں“۔(رسالہ دلگداز لکھنو ماہ جون ۱۹۲۶ء) جناب مولانا ظفر علی خان ظفر ایڈیٹر اخبار ”زمیندار“ لاہور ”ہم مسلمانوں سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں اپنے دین مقدس کو پھیلانے کے لئے کیا جدو جہد کر رہے ہیں۔ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان آباد ہیں۔کیا ان کی طرف سے ایک بھی تبلیغی مشن مغربی ممالک میں کام کر رہا ہے؟ گھر بیٹھ کر احمدیوں کو بُرا بھلا کہہ لینا نہایت آسان ہے لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان میں اور دیگر یورپین ممالک میں بھیج رکھے ہیں۔کیا ندوۃ العلماء دیوبند ، فرنگی محل اور دوسرے علمی اور دینی مرکزوں سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ بھی تبلیغ و اشاعت حق کی سعادت میں حصہ لیں“۔(اخبار زمیندار لاہور دسمبر ۱۹۲۶ء) نیز فرمایا:۔مسلمانان جماعت احمدیہ اسلام کی انمول خدمت کر رہے ہیں۔جو ایثار، کمربستگی، نیک نیتی اور توکل علی اللہ ان کی جانب سے ظہور میں آیا ہے۔وہ اگر ہندوستان کے موجودہ زمانہ میں بے مثال نہیں تو بے انداز ، عزت افزائی اور قدردانی کے قابل ضرور ہے، جہاں ہمارے مشہور پیر اور سجادہ نشین حضرات بے حس و حرکت پڑے ہیں اس اولوالعزم جماعت نے عظیم الشان خدمت اسلام کر کے دکھا دی۔اخبار ” بندے ماترم اخبار زمیندار لاہور ۲۴ جولائی ۱۹۲۳ء) احمدی لوگ تمام دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ ٹھوس اور مسلسل تبلیغی