نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 355
۳۳۴ جماعت احمدیہ اغیار کی نظر میں شاعر مشرق علامہ اقبال پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیان کہتے ہے“۔(ملت بیضا پر ایک عمرانی نظرص ۱۷، ۱۸ مطبوعہ مرغوب الحسنی ، مترجم مولانا ظفر علی خان، ایڈیٹر زمیندار اخبار، لاہور ) جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی سجادہ نشین نظام الدین اولیاء نے اپنی کتاب ” مسلمان مہارا نا“ میں لکھا:۔اگر چہ میں قادیانی عقیدہ کا نہیں ہوں۔نہ کسی قسم کا میلان میرے دل میں قادیانی جماعت کی طرف ہے۔لیکن میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ قادیانی جماعت 66 اسلام کے حریفوں کے مقابلہ میں بہت مؤثر اور پر زور کام کر رہی ہے۔(بحوالہ الفضل ۳۱ مئی ۱۹۲۷ء) جناب مولا نا عبد الحلیم صاحب شر لکھنوی ایڈیٹر ” دلگداز“ لکھتے ہیں:۔آجکل احمدیوں اور بہائیوں میں مقابلہ و مناظرہ ہو رہا ہے اور باہم رد و قدح کا سلسلہ جاری ہے۔مگر دونوں میں اصل فرق یہ ہے کہ احمدی مسلک شریعت محمدیہ کو اسی قوت اور شان سے قائم رکھ کر اس کی تبلیغ واشاعت کرتا ہے اور بہائی مذہب شریعت عرب (اسلام) کو ایک منسوخ شدہ غیر واجب الا تباع دین بتاتا ہے خلاصہ یہ کہ بہایت اسلام کو مٹانے کو آئی ہے اور احمدیت اسلام کو قوت دینے کے لئے اور اسی کی برکت ہے کہ باوجود چند اختلافات کے احمدی فرقہ کے لوگ اسلام کی سچی اور پُر جوش