نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 339
۳۱۸ کامل یقین کا ثبوت بن رہا ہے۔اس طرح ایک دفعہ پر احمدیت کا قافلہ ایک عظیم سپہ سالار کی راہنمائی میں اپنے سفر کی طرف رواں دواں ہو گیا ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس کا مجلس انتخاب خلافت حضور انور نے فرمایا:۔سے خطاب آج جس کام کے لئے یہاں مجھے لایا گیا ہے قطعاً اس کا علم نہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے علم و عرفان کو آپ سنتے رہے، دیکھتے رہے۔خاکسار میں تو کسی بھی قسم کا علم نہیں ہے۔بہر حال یہاں کیونکہ قواعد میں کسی قسم کی معذرت کی اجازت نہیں اس لئے خاموشی سے اس کو قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔آپ لوگوں سے یہ درخواست ہے کہ اگر خدا کو حاضر ناظر جان کر اس یقین کے ساتھ خاکسار یہ فریضہ ادا کر سکتا ہے خاکسار کو اس مقصد کے لئے ، اس کام کے لئے مقرر کیا ہے تو آپ سے درخواست ہے میری مدد فرما ئیں دعاؤں کے ذریعے۔نہایت عاجز انسان ہوں، دعاؤں کے بغیر یہ سلسلہ چلنے والا نہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق دے کہ آپ لوگوں کے لئے دعا کرسکوں۔جو عہد ابھی کیا ہے اس پر پورا اتر سکوں اور آپ لوگوں سے بھی درخواست ہے کہ دعاؤں سے، دعاؤں سے، بہت دعاؤں سے میری مدد کریں۔اب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے الفاظ میں ہی ایک فقرہ اور کہتا ہوں کہ میری گردن اب خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔براہ راست خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے محض اور محض اپنے فضل سے ان کاموں کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی رضا کے کام ہوں۔آمین۔(الفضل ۵ دسمبر ۲۰۰۳ء)