نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 253
۲۳۲ ”اے جانے والے تجھے تیرا پاک عہد خلافت مبارک ہو کہ تو نے اپنے امام و مطاع مسیح کی امانت کو خوب نبھایا اور خلافت کی بنیادوں کو ایسی آہنی سلاخوں سے باندھ دیا کہ پھر کوئی طاقت اسے اپنی جگہ سے ہلا نہ سکی۔جا! اور اپنے آقا کے ہاتھوں سے مبارک باد کا تحفہ لے اور رضوان یار کا ہار پہن کر جنت میں ابدی بسیرا کر اوراے آنے والے! تجھے بھی مبارک ہو کہ تو نے سیاہ بادلوں کی دل ہلا دینے والی گرجوں میں مسند خلافت پر قدم رکھا اور قدم رکھتے ہی رحمت کی بارشیں برسا دیں۔تو ہزاروں کانپتے ہوئے دلوں میں سے ہو کر تخت امامت کی طرف آیا اور پھر ایک ہاتھ کی جنبش سے ان تھر اتے ہوئے سینوں کو سکینت بخش دی۔آ! اور ایک شکور جماعت کی ہزاروں دعاؤں اور تمناؤں کے ساتھ ان کی سرداری کے تاج کو قبول کر۔تو ہمارے پہلو سے اٹھا ہے مگر بہت دور سے آیا ہے۔آ! اور ایک قریب رہنے والے کی محبت اور دور سے آنے والے کے اکرام کا نظارہ دیکھے۔لام می و نظارت تالفه سلسلہ احمدیہ ص ۳۲۴۔شائع کردہ نظارت تالیف و تصنیف قادیان) حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے مختصر سوانح حیات حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفة المسیح الثانی مورخہ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء بروز ہفتہ قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی حرم ثانی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے بطن سے حضور کے سب سے بڑے