نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 252
۲۳۱ خلافت ثانیہ کا ظہور قدرت ثانیہ کے مظہر اول حضرت حافظ حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی خلیفتہ المسیح الاول مورخہ ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو بقضائے الہی وفات پاگئے۔آپ نے وفات الا سے پہلے اپنے جانشین کے متعلق ان الفاظ میں وصیت کی۔”میرا جانشین متقی ہو۔ہر دلعزیز ، عالم باعمل ہو۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک، چشم پوشی اور درگز رکو کام میں لاوے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ سب کا خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔(مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین ص ۸ - از اکبر شاہ نجیب آبادی ضیاء الاسلام پریس ربوه) چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فرزند دلبند گرامی ارجمند، مظہر الاول والآخر ، مظہر الحق والعلا، رحمت اور فضل اور قربت کا نشان فتح وظفر کی کلید، البی نوشتوں اور پیش خبریوں کے جلو میں بطور خلیفہ اسیح الثانی مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔افق احمدیت پر خلافت کا ایک چاند غروب ہوا تو ایک اور چاند طلوع ہوا۔اسی طرح روشن اور چمکتا ہوا اور نور آسمانی سے جگمگاتا ہوا۔جس طرح حضرت خلیفہ اسیح الاول نے آسمان احمدیت کو روشن کئے رکھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اس موقع پر بڑے دلنشین انداز میں احمدیت کے ایک رخصت ہوتے ہوئے خلیفہ کو الوداع اور ایک قدم رنجہ فرماتے ہوئے خلیفہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔