نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 245
۲۲۴ صفحه ۳۰۱،۳۰۰ پر لکھتے ہیں۔”آپ کی حذاقت کا شہرہ نزدیک و دور پھیل گیا اور آپ ہندوستان کے چند منتخب اطباء میں شمار ہونے لگے۔آپ بھیرہ چھوڑ کر قادیان چلے گئے اور بقیہ عمر درس و تدریس علاج معالجہ اور پرورش غرباء میں بسر کر دی۔آپ آل انڈیا ویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اعزازی ممبر اور رکن خصوصی بھی تھے۔( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد سوم نیا ایڈیشن ص ۶۳۴، ۶۳۵) خلافت اولی کے شیریں ثمرات حضرت خلیفہ اسیح الاول کا ۶ سالہ بابرکت عہد خلافت اور آپ کے کار ہائے نمایاں تاریخ خلافت احمدیہ کا ایک بہت ہی دلکش، ایمان افروز اور سنہری باب ہے اور خلافت احمدیہ کی عظیم الشان اساس ہے۔آپ کا عہد خلافت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق کے عہد خلافت سے کمال مشابہت رکھتا ہے۔جس کی تفصیل میں جانا اس مقالہ میں ممکن نہیں لہذانمونہ کے طور پر چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ صحابہ کرام کے زمانہ کی یاد دلاتا تھا۔قرآن کریم، حدیث شریف اور دوسرے دینی علوم کے پڑھنے کا جماعت میں ایک زبر دست ولولہ تھا۔جو بے نظیر عشق دین حضرت خلیفہ اول کے دل میں موجزن تھا اس نے اہل قادیان کے دلوں میں ایک چنگاری روشن کر رکھی تھی اور اس کا ایک زبردست اثر بیرونجات کی جماعتوں پر بھی تھا۔قادیان اور قادیان سے باہر کے لوگ برابر دین کا علم سیکھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور یہ بات بالخصوص قادیان کی رونق اور نیک شہرت کا باعث تھی اور اس بات نے افراد جماعت میں دینداری، دیانتداری اور پر ہیز گاری پیدا کر دی تھی۔حضرت خلیفہ اول اکثر فرمایا کرتے تھے کہ دین کا اثر