نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 241 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 241

۲۲۰ خدمت میں پہنچنے کی کوشش کرتے۔حتی کہ جوتی سنبھالنے اور پگڑی پہنے کا بھی انہیں خیال نہ رہتا۔ایک دفعہ حضور دہلی میں تھے وہاں سے حضور کا پیغام حضرت مولوی صاحب کو قادیان میں ملا کہ آپ فوراً دہلی آجائیں۔حضرت مولوی صاحب اس وقت اپنے مطب میں بیٹھے تھے۔جب پیغام ملا تو وہیں سے اور اسی حالت میں روانہ ہو گئے۔نہ سفر کے لئے کوئی سامان لیا اور نہ کرایہ کا ہی انتظام کیا۔کسی نے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ گھر جا کر سامان بھی نہ لیں اور اتنے لمبے سفر پر خالی ہاتھ روانہ ہو جائیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔جب حضور کا حکم ہے کہ فوراً آجاؤ تو میں ایک منٹ بھی یہاں ٹھہر نا گناہ سمجھتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ جب آپ گاڑی پر روانہ ہونے کے لئے بٹالہ کے ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو ایک امیر آدمی جو بیمار تھا علاج کے لئے حاضر ہو گیا اس نے دہلی تک کا ٹکٹ بھی خرید دیا اور ایک معقول رقم بھی آپ کی خدمت میں پیش کر دی۔اس سے اندازہ جگایا جا سکتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا حضور کی اطاعت کرنے کا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور تو کل کرنے میں کیسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ تھا۔آپ کی انہی خوبیوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود نے آپ کی تعریف میں یہ فارسی شعر کہا کہ ے چه خوش بودے اگر ہر یک ز اُمت نوردیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہی اچھا ہواگر میری قوم اور جماعت کا ہر فردنور دین بن جائے۔مگر یہ بھی ہو سکتا ہے جبکہ ہر ایک دل نور دین کی طرح یقین کے نور سے بھر جائے۔