نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 183 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 183

۱۶۲ کا منشاء ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھالے گا۔پھر قبضہ کی بادشاہت رہے گی۔جب تک خدا چاہے گا۔پھر زبردستی کی حکومت ہوگی۔پھر خدا اسے بھی اٹھالے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج نبوت ہوگی۔پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام خاموش ہو گئے۔اس حدیث نبوی سے عیاں ہے کہ خلافت راشدہ یا خلافت علی منہاج النبوۃ کے دو دور ہیں۔ا۔دور اول حضرت سرور کونین ﷺ کے وصال کے فوراًبعد شروع ہونا تھا۔۲۔دور ثانی آخری زمانہ میں امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جاری ہونا تھا۔پس آیت استخلاف نیز حدیث مَا كَانَتْ نبوةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهُ خِلَافَةٌ۔(سنن ابن ماجه جلد دوم ص ۲۸۹ مطبوعہ مصر اور مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں ضروری تھا کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد رشد و ہدایت کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے نبوت کے طریق پر خلافت کا نظام جاری ہوتا۔تا بنی نوع انسان کو اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے میں مددمل سکتی۔چنانچہ اسی مقصد اور ضرورت کے پیش نظر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگئی۔جسے خلافت راشدہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔خلافت راشدہ کا قیام ضرت ﷺ کے صحابہ کرام کو آپ سے اس قدر پیار، محبت اور عشق تھا کہ انہوں نے آپ کی وفات کے بارہ میں کبھی سوچا ہی نہ تھا۔لیکن الہی پروگرام کے مطابق مورخه ۱۲ ربیع الاول ۱۱ ہجری بمطابق ۶۳۲ ء کو جب آنحضرت ﷺ کی وفات