نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 182
۱۶۱ خلافت راشدہ اولیٰ جیسا کہ قبل از میں باب اول میں نظام خلافت کے اغراض و مقاصد کے تحت بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ابتدائے آفرینش سے یہ سنت ہے کہ انبیاء کے ذریعہ رشد و ہدایت کے سلسلہ کو جاری فرماتا ہے اور جب تک چاہتا ہے ان کے بابرکت وجودوں سے کام لیتا ہے پھر بشریت کے تقاضا کے ماتحت جب ان کی وفات ہو جاتی ہے تو رشد و ہدایت کے سلسلہ کو ممتد کرنے کے لئے وہ خلفاء کے سلسلہ کو قائم فرماتا ہے۔چنانچہ اسی سنت اور دستور الہی کے تحت آنحضرت ﷺ نے اپنی وفات سے پیشتر امت محمدیہ کو اپنی وفات کے بعد قائم ہونے والے نظام خلافت کی نوید سناتے ہوئے فرمایا:۔حضرت حذیفہ سے مروی ہے:۔قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيْكُمُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَاشَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونُ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ اَنْ تَكُونُ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةٌ فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُوْنَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔(مشكوة المصابيح باب الانذار والتنذير ص ٤٦١۔مسند احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۲۷۳ حدیث نمبر ۱۷۶۸۰) کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری نبوت تم میں رہے گی۔جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ اسے اٹھا لے گا۔پھر خلافت علی منہاج النبوۃ ہو گی۔جب تک خدا تعالیٰ