نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 124 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 124

١٠٣ آپ مزید فرماتے ہیں:۔”نبی کے بعد خلیفہ بنانا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقررفرمادے گا کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے اول حق انہی کے دل میں ڈالا۔خلفاءسلسلہ کے ارشادات ( ملفوظات جلد پنجم ص ۵۲۴، ۵۲۵ نیا ایڈیشن ) اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلفاء کے ارشادات پر نگاہ ڈالتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ کے بارہ میں ہماری کیا راہنمائی فرماتے ہیں۔سب سے پہلے حضرت سیدنا ومولانا نورالدین خلیفہ اول کے رشد و ہدایت سے بھر پور اور حق وصدات سے معمور کلمات کو لیتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں اور کس فیصلہ کن انداز میں فرماتے ہیں:۔ا۔میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا