نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 111
اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔اکیلا نبی کوئی کام نہیں کر سکتا۔دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حواری دئے ہوئے تھے اور رسول کریم ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی جماعت دی۔اسی طرح اگر خلافت قائم رہے گی تو ضروری ہے کہ اطفال الاحمدیہ، خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ بھی قائم رہیں اور جب یہ ساری تنظیمیں قائم رہیں گی تو خلافت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی۔“ 66 فرموده بر موقع سالانہ اجتماع انصار الله مرکز یہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۶ء۔بحوالہ سبیل الرشاد حصہ اول ص ۱۲۹ از حضرت مصلح موعود) پس ہماری کتنی خوش قسمتی اور سعادت ہے کہ آج دنیا کے پردہ پر صرف احمدیت ہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خلافت کا بابرکت نظام عطا فرمایا ہے۔مختلف طرز کے قیادت کے نظام تو نظر آتے ہیں لیکن کوئی قائد نہیں جس کو خدا نے مقرر کیا ہو۔کوئی ایسا سر براہ نہیں جس کے سر پر خدا کا سایہ ہو۔کوئی ایسا نہیں جس کو خدائی مدد اور نصرت کا علم عطا کیا گیا ہو۔کوئی نہیں جس کے قدموں میں خدائی اذن سے فتوحات پچھتی چلی جاتی ہوں۔ہم پر خدائے ذوالمنن کا یہ مزید احسان اور کرم ہے کہ ہمیں اس خلافت کے خدام ہونے کا شرف عطا کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم امانت کا امین بنایا ہے۔ایک عظیم الشان انعام سے نوازا ہے لیکن یادر ہے کہ یہ سعادت اپنے ساتھ عظیم ذمہ داریاں بھی لے کر آتی ہے۔یہ انعام ہمیں اطاعت کی دعوت دیتا ہے۔ایسی اطاعت کہ اپنا کچھ نہ رہے اور ہر حرکت وسکون آقا کے اشارے پر قربان ہونے کو بے تاب نظر آئے۔یہ انعام ہمیں قربانی اور استقامت کے میدانوں کی طرف بلاتا ہے وہ میدان جن میں قرون اولیٰ اور اس دور آخرین کے صحابہ کی عظیم الشان قربانیوں کی داستانیں رقم ہیں۔ان داستانوں کو آج پھر سے زندہ کرنا ہمارا فرض ہے۔