نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 105 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 105

۸۴ کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔پس وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكواةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ فرما کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس وقت رسول کی اطاعت اسی رنگ میں ہوگی کہ اشاعت وتمکین دین کے لئے نمازیں قائم کی جائیں۔زکوتیں دی جائیں اور خلفاء کی پورے طور پر اطاعت کی جائے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے۔۔اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اقامت صلوۃ اپنے صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۶ ص ۳۶۷) ۴۔خلافت سے کامل وابستگی نظام خلافت کے حوالے سے ہماری چوتھی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خلافت کے ساتھ کامل وابستگی اور پختہ تعلق قائم کریں۔جیسا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الاول فرماتے ہیں:۔آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتاہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اغتصـام حَبْلُ اللہ کے ساتھ ہو۔قرآن تمہارا دستورالعمل ہو۔باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضان الہی کو روکتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی نقص کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔رسول اللہ ﷺ کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہو گئے۔اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے۔اس لئے چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں