حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 76
حوادث طبیعی یا عذاب الہی چھوڑ گئی ہے۔آج ان الزامات کے مطالعہ سے ایک محقق کا ذہن یقینا یہ سوچنے پر مجبور ہو گا کہ :۔(۱)۔اگر قادیان میں واقعہ طاعون نے کوئی عام تباہی مچائی تھی تو دشمنان احمدیت کو یہ امر حکومت کے طبی ریکارڈ سے ثابت کرنا چاہیئے تھا یا کم از کم یہ دعوی ہی کرنا چاہیے تھا قادیان میں سینکڑوں طاعونی اموات واقع ہو رہی ہیں۔اس کے بر عکس محض گنتی کے چند ناموں کا اعلان کرناخود اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ پیشگوئی کے عین مطابق قادیان طاعون کے عام حملہ سے محفوظ رہا۔(۲)۔اگر واقعہ قادیان میں متعدد طاعونی اموات واقع ہوئی ہوتیں تو دشمن احمدیت اخبارات ہر گز اس امر کے محتاج نہیں تھے کہ اس بارہ میں فرضی نام شائع کرتے یا غیر طاعونی اموات کو طاعونی اموات قرار دیتے۔اخبارات کی یہ حرکت خود اس امر کی غمازی کر رہی ہے کہ در حقیقت قادیان طاعون کی عام تباہی سے محفوظ رہا۔(۳)۔معاند اخبارات کا بطور الزام بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں کسی طاعونی موت کا ذکر نہ کرنا ان کی عاجزی اور بے بسی کی دلیل ہے اور اس امر کا مزید ثبوت ہے کہ الدار “ کی حفاظت کا دعویٰ بڑی شان سے پورا ہوا۔بہر کیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں معاند اخبارات کے الزامات کا نہایت تشفی بخش جواب دیا وہاں ایک بار پھر ان پر اپنے دعویٰ اور پیشگوئی کی نوعیت کو حسب ذیل الفاظ میں واضح فرمایا:- ”ہمیں اس سے انکار نہیں کہ قادیان میں کبھی کبھی وباء پڑے یا کسی معمولی حد تک طاعون سے جانوں کا نقصان ہو لیکن یہ ہر گز نہیں ہو گا کہ جیسا کہ قادیان کے ارد گر د تباہی ہوئی یہاں تک کہ بعض گاؤں موت کی وجہ سے خالی ہو گئے یہی حالت قادیان پر بھی آوے کیونکہ وہ خداجو قادر خدا ہے اپنے پاک کلام میں وعدہ کر چکا ہے جو قادیان میں تباہی کرنے والی طاعون نہیں پڑے گی جیسا کہ اس نے فرمایا لَوْلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ یعنی اگر مجھے تمہاری عزت ظاہر کرنا ملحوظ نہ ہو تا تو میں اس مقام کو بھی یعنی قادیان کو طاعون سے فنا کر دیتا۔یعنی اس گاؤں میں بھی 76