حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 75
حوادث طبیعی یا عذاب الہی قیاس کرنے کی جگہ ہے کہ وہ کس طرح خلاف واقعہ ماتم کی خبروں سے بے گناہ دلوں کو دکھ دے رہا ہے اور دنیا میں بے امنی پھیلا رہا ہے۔ایک تو آسمان سے انسانوں پر واقعی مصیبت ہے اب دوسری مصیبت یہ پید اہو گئی ہے جو پیسہ اخبار “ کے ذریعہ سے ملک میں پھیلتی جاتی ہے۔“ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۹۱) (ج) ”دوسرا طریق افتراء کا جو پیسہ اخبار نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ صرف فرضی نام لکھ کر ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ قادیان میں طاعون سے مرے ہیں حالانکہ ان ناموں کا کوئی انسان قادیان میں نہیں مرا۔مثلاً وہ لکھتا ہے کہ مسمی مولا کی لڑکی طاعون سے مری ہے حالانکہ مولا مذکور کے گھر میں کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ایسا ہی وہ لکھتا ہے کہ ایک صدر و بافندہ طاعون سے مرا ہے حالانکہ اس گاؤں میں صدر و نام کا کوئی بافندہ ہی نہیں جو کہ طاعون سے مر گیا ہے۔نہ معلوم اس کو یہ کیا سوجھی کہ فرضی طور نام لکھ کر ان کو طاعونی اموات میں داخل کر دیا۔شاید اس لئے ایسا کیا گیا کہ تا کچھ پتہ نہ چل سکے اور جاہل لوگ سمجھ لیں کہ ضرور ان ناموں کے کوئی لوگ ہوں گے جو مرے ہونگے۔“ (نزول المسح، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۹۱) (1) ”تیسر اطریق افتراء کا جو ”پیسہ اخبار “ نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ بعض آدمی فی الحقیقت مرے تو ہیں مگر وہ کسی اور حادثہ سے مرے ہیں، نہ طاعون سے اور اس نے محض چالا کی اور شرارت سے طاعون کی اموات میں داخل کر دیا ہے۔مثلاً وہ اپنے اخبار میں بڑھا تیلی کے لڑکے کی نسبت لکھتا ہے کہ وہ طاعون سے مرا ہے حالانکہ تمام گاؤں جانتا ہے کہ وہ دیوانہ کتے کے کاٹنے سے مرا تھا۔اور جیسا کہ معمول ہے سرکاری طور پر اس کی موت کا نقشہ تیار کیا گیا اور کتے کے کاٹنے کی تاریخ وغیرہ اس میں لکھی گئی۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۹۱-۳۹۲) دشمن احمدیت اخبارات کی الزام تراشی کے نتیجہ میں اس زمانہ کے لاعلم عوام کے ایک طبقہ کو ضرور نقصان پہنچا ہو گا لیکن مستقبل کے لئے یہ الزام تراشی بھی احمدیت کی تائید میں کچھ نشان 75