حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 93

حوادث طبیعی یا عذاب الہی میں شائع کیں۔اسی پر اکتفانہ کرتے ہوئے سعد اللہ لدھیانوی نے اپنی کتاب ”شہاب ثاقب بر مسیح کا ذب“ میں حضور علیہ السلام کی ہلاکت و تباہی کی پیشگوئی کی۔یعنی خدا کی طرف سے تیرے لئے مقدر ہو چکا ہے کہ خدا تجھے پکڑے گا اور تیری رگ جان کاٹ دے گا۔تب تیرے مرنے کے بعد تیر ا جھوٹا سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور اگر چہ تم لوگ کہتے ہو کہ ابتلاء بھی آیا کرتے ہیں مگر آخر تو حشر کے دن نیز اس دنیا میں نامراد رہے گا۔اس پر اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۲۹۔ستمبر ۱۸۹۴ء کو بذریعہ الہام خبر دی ان شَانِئَكَ هُوَ الْاَبر یعنی (اسد اللہ ) تیرا دشمن ابتر اور مقطوع النسل مرے گا۔۔۔۔۔حضور کی بد دعا اور اس الہام 1 پر ابھی صرف چند راتیں ہی گزری تھیں کہ سعد اللہ کو جنوری کے ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتہ میں پلیگ ہوا اور وہ ہزار حسرتوں کے ساتھ اس جہاں سے چل بسا۔اس کے لڑکے کی نسبت حاجی عبد الرحیم کی دختر سے ہو چکی تھی اور عنقریب شادی ہونیوالی تھی اسے یہ بھی نصیب نہ ہوا کہ اپنے اکلوتے لڑکے کی شادی دیکھ لیتا۔سعد اللہ کی موت کے بعد اس کے بیٹے نے گو شادی کر لی مگر لمبا عرصہ زندہ رہنے کے باوجود تمام عمر لا ولد رہ کر ۱۲۔جولائی ۱۹۲۶ء کو موضع کرم کلاں میں فوت ہو گیا۔از تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۴۸۱-۴۸۲) چوتھی شق طاعون کے زائل ہونے کیلئے قبول احمدیت کی شرط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے طاعون کی وباء کو اپنی صداقت کے گواہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس وباء کا ایک امتیازی کردار یہ بھی بیان فرمایا تھا کہ یہ اس وقت تک نہیں ملے گی جب تک لوگ آپ کو قبول نہیں کریں گے۔پیشگوئی کا یہ حصہ بھی جیسا کہ شق نمبر ۲ میں گذر چکا ہے بڑے وسیع پیمانے پر بڑی وضاحت کے ساتھ پورا ہوا۔خصوصاً پنجاب کی سر زمین میں جو 1 نوٹ: اس الہام سے مراد رُبَّ أَشْعَثَ أَغْبَرَ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللہ لابرہ “ کا الہام ہے۔واقعہ کی مکمل تفصیل کے لیے تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ ۴۸۱ تا ۴۸۲ ملاحظہ فرمائیں۔پبلشر 93