حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 92

حوادث طبعی یا عذاب الہی طاعون میں مبتلا ہو گیا۔آخر پورے ایک سال بعد عین ۷۔رمضان کو بتاریخ ۱۴۔نومبر ۱۹۰۴ء نا کامی و نامرادی کا منہ دیکھتا ہوا اٹھ گیا۔(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ ۴۸۰) ۱۳۔ایک شخص عبد القادر نام ساکن طالب پور پنڈوری ضلع گورداسپور میں رہتا تھا۔۔۔۔اس کو مجھ سے سخت عناد اور بغض تھا اور ہمیشہ مجھے گندی گالیاں دیتا تھا۔پھر جب اس کی گندہ زبانی انتہا تک پہنچ گئی تب اس نے مباہلہ کے طور پر ایک نظم لکھی۔۔۔۔جس میں اس نے سخت سے سخت فسق و فجور کی باتیں میری طرف منسوب کی ہیں۔۔۔۔۔ایسا ہی خدا نے جلد تر انصاف کر دیا اور ان شعروں کے لکھنے کے چند روز بعد یعنی بعد تصنیف ان شعروں کے وہ شخص یعنی عبد القادر طاعون سے ہلاک ہو گیا۔مجھے اس کے ایک شاگرد کے ذریعہ سے دستخطی تحریر اس کی مل گئی اور نہ صرف اکیلا طاعون سے ہلاک ہوا بلکہ اور بھی اس کے بعض عزیز طاعون سے مر گئے۔ایک داماد بھی مر گیا۔(اوتی، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۸۲-۳۸۳) ۱۴۔یہاں مذ پر طاعون کے حملے کا ذکر بھی خالی از دلچسپی نہ ہو گا۔مد کے رہنے والوں نے چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو خود بلوا کر گالیاں دلوائیں اور ان کو شرارت سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کی تھی اس لئے پانچ چھ ماہ بعد یہاں طاعون کا سخت حملہ ہوا اور دو اڑھائی سو کی آبادی میں سے مئی ۱۹۰۳ء تک ایک سو تیس افراد اس کا شکار ہو کر لقمہ اجل ہو گئے۔۱۹۱۰ء میں دوبارہ مد میں طاعون کا زور ہوا اور گاؤں کی عورتوں نے ملانوں کو سخت سست کہا کہ انہوں نے مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو بلوا کر مرزا صاحب کے حق میں سخت گوئی کی اور وبا پھیلی۔تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۲۲۹) ۱۵۔۱۹۰۷ء میں جو معاند طاعون کا شکار ہوئے ان میں سے سب سے زیادہ بد گو مولوی سعد اللہ لدھیانوی نو مسلم تھا۔۔۔۔۔اس شخص نے ابتداء ہی سے سلسلہ کی مخالفت انتہا تک پہنچادی تھی اور سب و شتم سے بھری ہوئی تحریرات نظم و نثر 92