حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 59

حوادث طبیعی یا عذاب الہی آبادی کی جگہ۔اور فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ مدینہ کی وبا اس میں سے ہمیشہ کے لیے نکال دی گئی ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب تک مکہ اور مدینہ ہمیشہ طاعون سے پاک رہے۔میں اس خدائے کریم کا شکر کرتاہوں کہ اس آیت کے مطابق اس نے مجھے بھی الہام کیا اور وہ یہ ہے "الامراض تُشَاءُ وَالنَّفُوْسُ تُضَاعُ - إِنَّ اللَّهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُ وا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ آوَى الْقَرْيَةَ- یہ الہام ۲۶۔فروری ۱۸۹۸ء میں شائع ہو چکا ہے اور یہ طاعون کے بارے میں ہے۔اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ موتوں کے دن آنے والے ہیں مگر نیکی اور تو بہ کرنے سے ٹل سکتے ہیں اور خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے اور متفرق کیے جانے سے محفوظ رکھا۔یعنی بشرط توبہ۔اور براہین احمدیہ میں یہ الہام بھی درج ہے کہ ما كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ -۔یہ خدا کی طرف سے برکتیں ہیں اور لوگوں کی نظر میں عیب۔“ ( مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم ص ۴۰۳-۴۰۱) طاعون کی اس وبا کا غیر معمولی طرز عمل جو اسے عام وباؤں سے ممتاز کرتا ہے ۱۹۰۱ء میں طاعون کی وبانے پنجاب پر ایک عام ہلہ بول دیا اور وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گزشتہ پیش گوئیوں کو استخفاف و استہزا کی نظروں سے دیکھ رہے تھے اچانک ہر طرف سے انتہائی ہولناک طاعون کے نرغے میں گھر گئے۔اس وقت وبا کی شدت کے دوران آپ کا یہ دعوی سخت تعجب انگیز تھا کہ یہ مرض آپ کے گھر کے چار دیواری میں بسنے والوں کو ہر گز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔یہی نہیں بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ صرف آپ کا گھر ہی نہیں خود قادیان بھی اس مرض کے ایسے حملے سے محفوظ رہے گا جو دوسرے شہروں کی طرح ہلاک خیز ہو گویا اس لحاظ سے پنجاب کے دوسرے شہروں کی نسبت قادیان کو ایک خاص امتیاز حاصل رہے گا لیکن پیشتر اس کے کہ ہم طاعون کی وبا کا اس پہلو سے تنقیدی جائزہ لیں کہ اس میں عذاب الہی 59