حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 42

حوادث طبیعی یا عذاب الہی تھے ایک دور اول اور ایک دور آخر۔عقل اس بات کو ایک لحظہ کے لئے بھی قبول نہیں کر سکتی کہ آخری غلبہ تو کسی بعد کے زمانہ کے لئے ہو لیکن عذاب الہی اس زمانہ کا انتظار کئے بغیر قوموں کی صف لپیٹ دے پس اگر غلبہ اس عہد آخر میں مقدر ہے تو عذاب الہی کا ایک دور بھی اس آخری زمانہ سے منسلک ہونا چاہئے۔قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور متعدد آیات اس طرف دلالت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ آنحضرت صلی علیم کے منکرین پر آخری حجت پوری کرنے کے لئے بہت سے نشانات اور عذاب مقدر ہیں جن میں سے بعض کا تعلق آگ سے ہے اور بعض زلزلوں سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض اپنی وسعت اور قوت میں ایسے عظیم الشان ہوں گے جو پہاڑوں کی طرح بڑی بڑی عظیم الشان اور قوی ہیکل قوموں کو آن واحد میں ملیا میٹ کر دیں گے اور ان کی عظمتیں خاک میں مل جائیں گی۔یہاں تک کہ یا تو وہ ایمان لانے پر مجبور ہوں گے یا عملا اس دنیا سے نابود کر دیئے جائیں گے۔غرضیکہ وہ روکیں جو ان کو آنحضرت صلی علیم کی کامل اطاعت سے محروم رکھے ہوئے تھیں وہ راہ سے ہٹ جائیں گی۔سورۃ طہ میں اس نوعیت کے عذاب کا ذکر (سورة طه : ۱۰۶ تا ۱۰۹) کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان قوموں کو تمثیلی زبان میں پہاڑ قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّ نَسْفًا۔فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا ۖ لَّا تَرى فِيهَا عِوَجًا وَلَا آمَنَّا - يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَاعِوَجَ لَهُ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا ترجمہ : وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ میر ارب ان کو اکھاڑ کر پھینک دے گا اور ان کو ایک ایسے چٹیل میدان کی صورت میں چھوڑ دے گا کہ نہ تو تو اس میں کوئی موڑ دیکھے گا اور نہ کوئی اونچائی۔اس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چل پڑیں گے جس کی تعلیم میں کوئی کجی نہ ہو گی اور رحمن ( خدا کی آواز ) کے مقابلہ میں ( انسانوں کی آواز میں دب جائیں گی پس تو سوائے کھسر پھسر کے کچھ نہ سنے گا۔اس آیت کے مضمون کا تعلق قیامت کبریٰ اور اخروی دنیا کے واقعات سے نہیں بلکہ اسی دنیا کے واقعات سے ہے اگر یہ مراد لی جائے کہ پہاڑوں کا مٹایا جانا اس وقت ہو گا جب کہ ظاہری 42