حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 41
حوادث طبیعی یا عذاب الہی آپ کا مقصود تھا۔اس لحاظ سے کامل غلبہ اس وقت مقدر ہو سکتا ہے جب دنیا کے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کے ظاہری اسباب بھی مہیا ہو چکے ہوں۔طلوع اسلام کے وقت ابھی یہ سامان مہیانہ تھے بلکہ خطہ ارض کا ایک وسیع حصہ جسے ہم نئی دنیا کہتے ہیں ابھی تک دریافت نہیں ہو ا تھا۔اس وقت اگر بظاہر معلوم دنیا پر کامل غلبہ ہو ہی جاتا تو قریبا آدھی دنیا ایسی پڑی رہ جاتی جو اسلام کے نور سے نا آشنار ہتی۔اس کے علاوہ اس زمانہ میں مواصلات اور باہمی رابطے کے ایسے ذرائع ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے جن کے نتیجہ میں تمام انسانوں کو ایک عالمی برادری کی صورت میں جمع کیا جاسکتا۔ان امور کے پیش نظر یقینا غلبہ آخر کو اس وقت تک انتظار کرنا چاہئے تھا جب کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق فاصلوں کی دوری مٹ جاتی اور پہاڑوں، بیابانوں اور وسیع سمندروں کی قدرتی فصیلیں عملا اس طرح زائل ہو جاتیں کہ بین الا قوامی روابط کی راہ میں حائل نہ ہو سکتیں۔اس پہلو سے جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اسمیں بکثرت ایسی پیشگوئیوں کا ذکر پاتے ہیں جس میں انسان کی دور آخر کی ترقیات کا ذکر پایا جاتا ہے کہیں تیز رفتار سواریوں کا ذکر ملتا ہے کہیں انسانوں کے باہم ایک دوسرے کے ساتھ مل جانے کا تذکرہ ہے کہیں کتب اور رسائل کی بکثرت اشاعت کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے ذریعہ انسان ایک دوسرے کو بآسانی خیالات اور نظریات پہنچا سکتا ہے پھر ایسی پیشگوئیاں بھی موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ایسے سمندر آپس میں ملا دیئے جائیں گے جن کے درمیان نزول قرآن کے وقت خشکی کی دیوار حائل تھی۔ان پیشگوئیوں پر غور کرتے ہوئے انسان طبعا یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ غلبہ آخر کے وقت سے قبل یہ علامات ظاہر ہو چکی ہوں گی یا اُس دور میں تیزی کے ساتھ ترقی پذیر ہوں گی۔پس جب بھی انسان ان علامات کو ظاہر ہوتے دیکھے طبعا اسے توقع رکھنی چاہئے کہ اس امام کا ظہور بھی نزدیک ہے جس نے ادیان باطلہ پر اسلام کو غالب کرنے کی آخری تحریک چلائی تھی۔سوال کے دوسرے حصے کا تعلق اس بات سے تھا کہ اگر مکمل غلبہ نصیب نہیں ہو سکا تو عذاب الہی نے کیوں مخالف قوموں کو نابود نہ کر دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر غلبہ کے دو ادوار مقدر تھے جیسا کہ اوپر کی بحث سے ظاہر ہے تو عذاب الہی کے بھی دو ہی ادوار مقدر ہونے چاہئیں 41