حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 85
حوادث طبعی یا عذاب الہی محفوظ رہیں گے تو احمدیوں کا کیا سر پھر گیا تھا کہ عذاب کی دوہری چکی میں پیسے جاتے۔دنیا کا عذاب بھی سہیڑ تے اور الہی عذاب کا مورد بھی بنتے۔انسانی بغض و عناد کی آگ میں بھی جلتے اور حوادث کی چکی میں بھی پیسے جاتے۔کیا کوئی صاحب عقل ایک منٹ کے لئے بھی اس بعید از قیاس مفروضہ پر یقین کر سکتا ہے کہ طاعون کے زمانہ میں دنیا کے دھتکارے ہوئے ، مارے کوٹے، گھروں سے نکالے ہوئے ، برادریوں سے خارج کئے ہوئے، زمانہ کے ستائے ہوئے ، ٹوٹے ہوئے ، دل جلائے ہوئے احمدی بستی بستی یہ اعلان کرتے پھرتے ہوں کہ اے دنیا والو! اگر طاعون کے اس ہولناک سیلاب سے بچنا چاہتے ہو تو آؤ تم بھی ہماری طرح نوح زمانہ کی اس کشتی میں سوار ہو جاؤ جس میں ہم سوار ہیں۔اور اس اعلان کے ساتھ ساتھ طاعون کی ہلاکت خیز موجیں انہیں بھی اسی طرح لقمہ اجل بناتی چلی جائیں جس طرح دوسروں کو بناتی تھیں۔کیا یہ ممکن تھا کہ دنیا انہیں پہلے سے کہیں بڑھ کر طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناتی؟ ایک منٹ کے لئے نہیں کیا ایک لمحہ کے لئے بھی کوئی صاحب رشد یہ سوچ سکتا ہے کہ ایسی صورت میں کوئی احمدی بھی حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا دم بھرنے والا باقی رہ جاتا؟ یقیناً نہیں۔آپ کے مبینہ افتراء پر طاعون زدہ علاقوں میں اس سے زیادہ قطعی اور اس سے زیادہ معتبر کوئی اور گواہ سوچا نہیں جا سکتا تھا۔آپ کے خلاف طاعون کی یہ گواہی اتنی قطعی، اتنی حقیقی اور اتنی نزدیک اور قوی اور شدید ہوتی کہ کسی متنفس میں یہ ہمت اور استطاعت نہ ہوتی کہ اس کا انکار کر پس اس پر آشوب زمانہ میں جماعت احمدیہ کا غیر معمولی استقامت اختیار کرنا اور حضرت اقدس علیہ السلام کے تمام دعاوی پر استقامت سے مہر تصدیق ثبت کرنا اس امر کا نا قابل تردید گواہ ہے کہ افراد جماعت نے اپنے حق میں حضور علیہ السلام کے اس وعدہ کو پورا ہوتے دیکھا ہو گا کہ وہ طاعون کی زد سے غیر معمولی طور پر محفوظ رہیں گے۔آج کے متلاشی حق کے لئے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اس زمانہ کے لوگوں کے لئے طاعون کی پیشگوئی کے سچ یا جھوٹا نکلنے کی صورت میں دو ہی راستے رہ جاتے تھے ایک وہ جو احمدیت 85