حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 84
حوادث طبعی یا عذاب الہی ان میں سے کسی کا یہ دعوی نہ تھا کہ وہ اللہ تعالی سے خاص خبر پا کر یہ علاج تجویز کر رہا ہے۔پس کوئی وجہ نہ تھی کہ مجوزہ روحانی علاج کی ناکامی کی صورت میں ان کے مرید اور حلقہ بگوش اپنے مذہب ہی سے ارتداد اختیار کر جاتے۔لیکن حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کا معاملہ کچھ اور تھا۔آپ اگر اپنے دعوی میں جھوٹے نکلتے تو بلاشبہ آپ کی ساری جماعت بد ظن اور مرتد ہو کر اپنے آبائی فرقوں کی طرف لوٹ جاتی۔وہ آپ کے گرد جمع ہی اس بنا پر ہوئے تھے کہ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالی آپ سے ہم کلام ہو تا ہے اور اس نے آپ کو زمانے کا امام بنا کر بھیجا ہے۔محض اس یقین کی بناء پر تو انہوں نے ایک ایسا مسلک اختیار کیا تھا جس کا اختیار کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔احمدی ہوتے ہی اپنے پرائے ہو جاتے تھے۔آشنا بیگانے بن جاتے تھے۔بسا اوقات اپنے گھروں سے نکالے جاتے اور وطنوں سے بے وطن کئے جاتے۔جان نثار دوست خون آشام دشمن بن جاتا۔باصفا مرید خشمناک معاند میں تبدیل ہو جاتا۔اموال لوٹ لئے جاتے۔جائیدادیں چھینی جاتیں۔یہاں تک کہ بیوی بچے بھی الگ کر دیئے جاتے۔جو چیزیں خدا تعالیٰ نے ان پر حلال رکھی تھیں بندے ان پر حرام کر دیتے۔چیزوں کا تو ذکر کیا خود زندگی حرام ہو جاتی۔عزتیں ذلتوں میں بدل جاتیں۔پھول پتھروں ، اکرام و احترام کے القابات غلیظ گالیوں میں تبدیل کر کے کوڑا کرکٹ کی طرح ان پر صبح و شام انڈیلیے جاتے۔یہ تھی وہ جماعت جو حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے گرد اکٹھی ہوئی تھی۔اور یہ وہ قیمت تھی جو ایمان کا سودا چکاتے ہوئے انہوں نے ادا کی تھی۔کیوں؟ محض اس لئے اور محض اس لئے اور محض اس لئے کہ وہ اسے خدا کا فرستادہ سمجھتے تھے اور یقین جانتے تھے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے اپنے رب کی طرف سے کہتا ہے۔اب سوچنے کا مقام ہے کہ ایک ایسی جماعت جو انتہائی صبر آزما اور پر آزار ابتلاؤں کی سختیاں محض اس بناء پر بر داشت کر رہی ہو کہ وہ ایک دعویدار کو خداتعالی کا سچا مر سل سمجھتی ہو اگر اچانک یہ مشاہدہ کرے کہ اس شخص کا خدا تعالی سے ہمکلامی اور نصرت الہی کے مورد ہونے کا دعویٰ محض ایک ڈھکو نسلا تھا تو کیا وہ ایک لمحہ کے لئے بھی مزید اس کی تائید و تصدیق کا دم بھر سکتی تھی۔اگر مرزا صاحب کا یہ دعوی جھوٹا نکلتا کہ طاعون احمدیوں کے ساتھ ایک نمایاں اور امتیازی سلوک کرے گی اور اکا دکا واقعات کے سوا عموماً احمدی اس کی زد سے 84