حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 3

حوادث طبیعی یا عذاب الہی آتی ہے کہ اہل اسلام کا بھی ایک بڑا طبقہ مادی نظریہ طبیعات سے متاثر ہو کر مافوق البشر مداخلت کے عقیدہ سے منحرف ہو چکا ہے۔اگرچہ غیر معمولی مصائب کے وقت عامۃ الناس کبھی کبھی تو یہ زبان سے پکار اٹھتے ہیں کہ یہ تو عذاب ہے اور چند دن کے لیے جب تک مصیبت ان کو گھیرے رکھے۔اذانیں دے کر یا استغفار کر کے یاد عائیں مانگ کر اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع بھی کرتے ہیں لیکن عملاً ان مظاہر قدرت کو عذاب قرار دینے کے باوجود ان کی زندگی میں کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ ایک عارضی اور فانی خیال کی طرح دل و دماغ سے ایک مسافر کی طرح گزر جاتی ہے۔مزید برآں عمومی رنگ میں حوادث کو عذاب الہی قرار دینے کے باوجود وہ قرآن کریم کے اس دعویٰ کی طرف پھر بھی توجہ نہیں کرتے کہ ان عذابوں کا تعلق محض بد اعمالیوں سے ہی نہیں بلکہ رسولوں کے انکار سے بھی ہے۔بلکہ اس حد تک ہے کہ بد اعمالیوں کی سزا کے نتیجہ میں بھی یہ عذاب اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتے جب تک اللہ تعالیٰ کوئی تنبیہ کرنے والا پیغمبر ان میں نہ بھیج دے اور بروقت متنبہ کر کے دنیا کو نیکیوں کی طرف بلانے کی کوشش نہ کرے۔جماعت احمد یہ جو اس نظریہ کی بھی بڑے وثوق سے قائل ہے روز مرہ اس سلسلہ میں تلخ تجربات کا سامنا کرتی رہتی ہے اور آئے دن احمدیوں کو ایسے دوستوں سے تبادلہ خیالات کا موقعہ ملتا رہتا ہے جو غیر معمولی آفات کو عذاب الہی ماننے پر تیار ہو جاتے ہیں لیکن اس بات کو تسلیم کرنے پر ہر گز آمادہ نہیں ہوتے کہ ان عذابوں کے ظہور سے قبل اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کی اصلاح اور تنبیہ کے لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی نبی بنا کر بھیجا ہے۔یہی نہیں بلکہ احمدیوں کو اس سلسلہ میں بعض اوقات سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر یہ طعن کیا جاتا ہے کہ ہر مصیبت جو دنیا پر نازل ہوتی ہے تم اسے مرزا غلام احمد کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کر دیتے ہو۔یہ کیا تمسخر ہے ؟ چلی میں زلزلہ آئے یا چین کی سر زمین لرزش کھارہی ہو۔ترکی، اٹلی یا ایران کی عمارتیں تہہ وبالا ہو ر ہی ہوں یا ہزارہ اور مردان کی سرزمین قیامت کا نمونہ دیکھے بارشیں آئیں، خشک سالی ہو، آندھیاں چلیں یا ہوائیں بند ہو جائیں غرضیکہ حوادث قدرت کوئی بھی کروٹ لیں تم لوگ بلا سوچے سمجھے ہر طبعی واقعہ کو مرزا صاحب کی سچائی کی دلیل کے طور پر پیش کرنے لگ جاتے ہو۔ذرا 3