حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 83

حوادث طبیعی یا عذاب الہی ہر گز ذبح نہ کی جائے تو پھر دیکھئے کہ طاعون کیونکر دفع ہو جاتی ہے۔بلکہ اسی اخبار میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک شخص نے گائے کو بولتے سنا کہ وہ کہتی ہے کہ میری وجہ سے ہی اس ملک میں طاعون آیا ہے۔“ ( دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۳-۲۲۴) ان مختلف روحانی نسخہ جات کے بعد آپ نے اس بارہ میں اپنا موقف حسب ذیل الفاظ میں بیان فرمایا:- ” اس بیماری کے دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔“ (ماخوز از دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۲) آئیے اب ہم دیکھیں کہ اس بلائے طاعون کی خود اپنی ادائیں کیا کہتی تھیں۔عذاب الہی کے سے بامقصد اور سنجیدہ آداب تھے یا حوادث زمانہ کے سے لا ابالی اور بے نظم وضبط اطوار۔اس زاویہ نگاہ سے واقعات کا ایک سرسری جائزہ لینے سے ہی یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ اس طاعون کی روش اتفاقی حوادث کے تابع نہیں تھی بلکہ عذاب الہی کی بالا تر تقدیر کے ماتحت تھی۔حوادث کا قانون تو اندھا ہو تا ہے، نیک و بد میں تمیز نہیں جانتا، بچے اور جھوٹے میں فرق نہیں کر سکتا بلکہ سب پر یکساں جاری ہوتا ہے۔لیکن طاعون کی یہ وباء اندھی نہ تھی بیچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھاتی تھی۔اس کی پکڑ کا اصول سب پر یکساں جاری نہ تھا۔بعضوں کو غیر معمولی سختی سے پکڑتی تھی اور بعضوں سے بڑی ملائمت کا سلوک کرتے ہوئے صرف نظر کر جاتی تھی۔اس نے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں ایسا صاف اور بین فرق کر کے دکھایا کہ ایک زمانہ گواہ ٹھہرا اور وہ گواہیاں صفحہ ہستی پر ایک ایسا پائیدار نقش بن گئیں جو اس دعویدار کی صداقت پر گویا بولتی ہوئی تصویریں تھیں۔اگر یہ بیماری طبعی حوادث کا نتیجہ ہوتی تو بلاشبہ اسے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے متبعین سے بھی ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے تھا جیسا اس نے دوسرے معالجین روحانی سے کیا۔احمدی بستیاں بھی ویسے ہی اجڑ جاتیں جیسے دوسری بستیاں اجڑ رہی تھیں۔بلکہ ان سے بڑھ کر گلشن احمدیت پر تباہی آنی چاہئے تھی۔حضرت اقدس علیہ السلام اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کے دعاوی میں ایک بہت بڑا اور بنیادی فرق تھا۔83