حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 81
حوادث طبعی یا عذاب الہی پھرنا، چلنا، کھیلنا، دوڑنا شروع کر دیا گویا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی۔یہی ہے احیائے موتی۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ حضرت عیسی کے احیائے موتی میں اس سے ایک ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا۔“ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۲۱۹-۲۱۸) چوتھی شق۔جماعت احمدیہ کی عمومی حفاظت کا وعدہ اب ہم پیشگوئی کی چوتھی شق کو لیتے ہیں جس میں جماعت احمدیہ کی عمومی حفاظت کا وعدہ کیا گیا تھا۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس دعوی میں اولیت حاصل تھی کہ یہ طاعون چونکہ عذاب الہی ہے اس لئے اس کا روحانی علاج ہی تجویز ہونا چاہئے۔لیکن حضور علیہ السلام کے اس دعوی کے بعد بکثرت دوسرے مذاہب اور فرقوں کے راہنما بھی اس نقطہ نگاہ میں آپ سے متفق ہو گئے البتہ اس اصل کو تسلیم کرتے ہوئے جو نتیجہ نکالا وہ بالکل مختلف تھا۔گو سبھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ اس عذاب سے بچنے کے لئے کوئی روحانی علاج ہی تجویز ہو نا چاہئے لیکن ان میں سے ہر ایک الگ الگ اور مختلف روحانی علاج تجویز کر رہا تھا جس کے نتیجہ میں وسیع پیمانہ پر مذہبی مقابلہ کی ایک دلچسپ صورت پیدا ہو گئی۔خصوصاً پنجاب کی سر زمین تو اس پہلو سے ایک وسیع مذہبی اکھاڑے میں تبدیل ہو گئی جس کی مٹی کو بلائے طاعون نے ہل چلا چلا کر اس مقصد کے لئے نرم اور ساز گار بنا رکھا تھا۔طاعون سے بچنے کے لئے جو مختلف نسخہ جات منظر عام پر آرہے تھے ان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” اور مسلمان لوگ جیسا کہ میاں شمس الدین سیکر ٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کے اشتہار سے سمجھا جاتا ہے جس کو انہوں نے ماہ حال یعنی اپریل ۱۹۰۲ء میں شائع کیا ہے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام فرقے مسلمانوں کے شیعہ سنی مقلد غیر مقلد میدانوں میں آکر اپنے اپنے طریقہ مذہب میں دعائیں کریں اور ایک ہی تاریخ میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھیں تو بس یہ ایسا نسخہ ہے کہ معاً اس سے طاعون دور ہو جائے گی مگر اکٹھے کیونکر ہوں اس کی کوئی تدبیر نہیں بتلائی گئی۔ظاہر ہے کہ 81