حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 77

حوادث طبیعی یا عذاب الہی بڑے بڑے خبیث اور شریر اور ناپاک طبع اور کاذب اور مفتری رہتے ہیں اور وہ اس لائق تھے کہ قہر الہی سب کو ہلاک کر دیوے مگر میں ایسا کرنا نہیں چاہتا کیونکہ در میان میں تمہارا وجود بطور شفیع کے ہے اور تمھارا اکرام مجھے منظور ہے اس لئے میں اس مرتبہ سزا سے در گزر کرتا ہوں کہ یہ خوفناک تباہی اور موت ان لوگوں پر ڈال دوں تاہم بکلی بے سزا نہیں چھوڑوں گا اور کسی حد تک وہ بھی عذاب طاعون میں سے حصہ لیں گے تاشریروں کی آنکھیں کھلیں۔“ (نزول السی، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۹۴) مندرجہ بالا تحریر کے آخری الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں اور زیر نظر مضمون پر بہت عمدہ روشنی ڈالتے ہیں ان کے ساتھ جب ہم ایک گزشتہ چیلنج کے حسب ذیل الفاظ کو ملا کر پڑھیں تو بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔”ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امر تسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں خواہ بٹالہ میں اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اس نے خدا تعالی کے مقابل پر گستاخی کی۔“ دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۸) مندرجہ بالا دونوں عبارتوں کے مضمون کو ذہن میں رکھ کر جب ہم حسب ذیل واقع پر نظر ڈالتے ہیں تو دل خشیت الہی سے بھر جاتا ہے اور حوادث طبعی اور عذاب الہی میں تمیز کا مسئلہ علمی حیثیت سے آگے گذر کر ایک قلبی واردات کی شکل میں ڈھل جاتا ہے:۔اسی ماہ یعنی فروری ۱۹۰۷ ء میں جب کہ یہ کتاب شائع ہوئی اچھر چند منیجر اخبار اور سیکر ٹری آریہ سماج قادیان نے ایڈیٹر "الحکم " شیخ یعقوب علی صاحب تراب سے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ میں مرزا صاحب کی طرح دعوی کرتا ہوں کہ طاعون سے کبھی نہیں مروں گا۔خدا کی قدرت چند روز کے اندر اندر ”شجھ چنتک کا پورا عملہ طاعون کا شکار ہو گیا اور خدا کے اس قہر نے ان کی اولاد اور اہل و عیال کو بھی 77