حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 74
حوادث طبیعی یا عذاب الہی احمدیت یہ دن دیکھنے کی حسرت لئے ہوئے خود طاعون کا شکار ہو کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔حضور علیہ السلام کے معاندین کے دلوں میں قادیان میں طاعون کی عام ہلاکت دیکھنے کی تمنا ایسی مچلتی اور کروٹیں لیتی تھی کہ جب کچھ بن نہ آئی تو فرضی قصوں ہی سے تسکین قلب کے سامان ہونے لگے۔لیکن یہ تسکین بھی عارضی اور فانی ثابت ہوئی کیونکہ حضور علیہ السلام نے معاً دلائل کی سخت ضربات کے ساتھ اس فریب کو پارہ پارہ کر دیا۔مثال کے طور پر ”پیسہ اخبار “ میں شائع ہونے والی ایک فہرست اموات کا ذکر کرتے ہوئے جو اخبار موصوف کے نزدیک قادیان کی بستی میں طاعون سے واقع ہوئی تھیں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی کتاب نزول مسیح میں حسب ذیل طریق پر اس کے فریب کا پردہ چاک کیا۔تحریر فرمایا:- (الف) کہاں تک ان لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے اور سمجھتے ہوئے نہیں سمجھتے۔ان میں سے جھوٹ بولنے کا سرغنہ ”پیسہ اخبار کا ایڈیٹر ہے جو بار ہا دروغ گوئی کی رسوائی اٹھا چکا ہے اور پھر باز نہیں آتا۔وہ میری نسبت آپ ہی اقرار کرتا ہے کہ انہوں نے قادیان کے بارے میں صرف اس قدر الہام شائع کیا ہے کہ اس میں تباہی ڈالنے والی طاعون نہیں آئے گی ہاں! اگر کچھ کیس ہو جائیں جو موجب افرا تفری نہ ہوں تو یہ ہو سکتا ہے۔اور پھر اپنے دوسرے پر چوں میں فریاد پر فریاد کر رہا ہے کہ قادیان میں طاعون آگئی ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۸۶-۳۸۷) (ب) وہ لکھتا ہے کہ مولا چوکیدار کی بیوی بھی طاعون سے فوت ہو گئی حالا نکہ وہ اس وقت تک قادیان میں زندہ موجود ہے۔ہر ایک شخص سوچ لے کہ اس شخص نے کیا وطیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ زندوں کو مار رہا ہے۔کیا ایک ایڈیٹر اخبار کی قلم سے ایسے خطرناک جھوٹ شائع ہونا اور دلوں کو آزار پہنچانا موجب نقص امن نہیں ہے؟ جس شخص کے اخبار کے ہر ہفتہ میں ہزار ہا پرچے شائع ہوتے ہیں 74