حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 66

حوادث طبعی یا عذاب الہی وَمَا نُرِيهِمْ مِنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا وَأَخَذْقُهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۔(سورة الزخرف: ۴۹) ترجمہ : اور ہم ان کو جو نشان بھی دکھاتے تھے وہ اپنے پہلے نشان سے بڑا ہو تا تھا اور ہم نے ان کو عذاب میں مبتلا کر دیا تھا تا کہ وہ اپنی بد اعمالیوں سے ) لوٹ جائیں۔اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح جاری رہتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت تک وہ عذاب مقدر ہو اور جس وقت تک اس کے اٹھا لینے کا فیصلہ نہ ہو جائے اس وقت تک وہ مسلسل شدت اختیار کرتا چلا جاتا ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ جب قوم میں خد اتعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو اور وہ بشدت استغفار کی طرف مائل ہو تو جب تک یہ کیفیت قوم میں پائی جائے یہ عذاب نرم پڑ جاتا ہے یائل جاتا ہے۔یہ دوسرا اصول بھی قرآن کریم فرعون کی قوم پر آنے والے عذابوں کے ضمن میں ہی بیان کرتا ہے جیسا کہ فرمایا کہ جب کبھی عذاب شدت سے اس قوم کو پکڑ لیتا تھا وہ لوگ مائل بہ استغفار ہوتے تھے اور حضرت موسیٰ سے دعا کی درخواست کرتے تھے۔تب وہ عذاب ٹل جاتا تھا یہاں تک کہ جلد ہی اس کے بعد قوم پھر شرارتوں کی طرف لوٹ آتی تھی۔تب اللہ تعالیٰ بھی ایک نیا عذاب ان پر وارد کرتا تھا۔پس کسی وقت عذاب کا وقتی طور پر ٹل جانا یا نرم پڑ جانا اس آیت کے مضمون کے مخالف نہیں ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔بہ یک وقت دونوں باتیں اس طرح نظر آتی ہیں کہ عذاب اپنی شدت میں بالعموم خفیف سے اشر کی طرف حرکت کرتا ہے لیکن کہیں کہیں انسانوں کی بے قراری اور استغفار کے آنسو اس آگ کو کسی حد تک ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور وقتی طور پر اس کی شدت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔شق دوم۔قادیان کی بستی سے استثنائی سلوک کا دعویٰ شق اول کے مطالعہ کے دوران بعض قارئین کے ذہن میں خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ جبکہ یہ مسلمہ امر ہے کہ طاعون کی وبا اس زمانہ میں پہلی مرتبہ ۱۸۸۰ء میں پھوٹی تھی اور اس کے بعد وقتاً 66