حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 40

حوادث طبیعی یا عذاب الہی پس جس مخبر صادق نے خزاں کے آنے کی خبر دی تھی اس نے بعد میں آنے والی بہار کی بھی تو خوشخبری دی ہے۔پھر جیسے خزاں کی خبر پوری ہو گئی ویسے بہار کی بھی خبر بہر حال پوری ہو کر رہے گی۔۔قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا مذکورہ بالا بحث سے اگر قارئین کو یہ تو معلوم نہیں ہو سکتا کہ عیسائیت کے تین سو سال کے مقابل پر اسلام کو اپنے مشن کی تکمیل کیلئے اور تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے کتنی مدت درکار ہے لیکن یہ امر تو بخوبی روشن ہو چکا ہو گا کہ اس مدت کا تعلق امام مہدی اور مسیح موعود کے ظہور سے ضرور ہے اور امام مہدی اور مسیح موعود کے ظہور کا واقعہ ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے یعنی ایک ایسے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو اس موڑ پر نصب ہے جہاں سے رفعتوں سے اتر کر منزل کی طرف جانے والی ایک راہ نے دفتا ایک بلند ہوتی ہوئی شاہراہ میں تبدیل ہو جانا تھا۔دوسروں کے لئے یعنی ان کے لئے جو مسلمان تو ہیں مگر جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتے۔یہ مدت غیر معین چلتی آرہی ہے۔لیکن احمدی جو ایک ایسے دعویدار پر ایمان لے آئے ہیں جس نے آنحضرت صلی الم کی کامل غلامی میں مہدی زماں اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ان کے لئے یہ مذت واضح طور پر معین ہو کر سامنے آچکی ہے اور ان کے لئے نزدیک ظہور اسلام کے بعد چودھویں صدی اسلام کے عالمگیر غلبہ کی تیاری کی صدی ہے۔اصل مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے ایک دفعہ پھر ہم اس سوال کو لیتے ہیں کہ کیوں آنحضرت صلی اللی علم کے مخالفین پر یعنی دنیا کے تمام ادیان غیر پر آج تک آنحضرت صلی ا یلم کے دین کو غلبہ حاصل نہیں ہوا کیوں اس کے باوجود عذاب الہی نے انکار کرنے والی قوموں کو ہلاک کر کے ان کا نشان دنیا سے مٹا نہیں دیا؟ اس سوال کے دو حصے ہیں اول یہ اسلام کو کیوں دور اول ہی میں مکمل غلبہ نصیب نہیں ہوا۔اس کا ایک جواب تو پہلے گزر چکا ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ہم کوئی علاقائی یا قومی نبی نہیں تھے بلکہ آپ کا پیغام تمام دنیا کے لئے تھا اور تمام بنی نوع انسان کو دین واحد پر جمع کرنا ،۔40