حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 34
حوادث طبعی یا عذاب الہی ایسا عظیم الشان غلبہ حاصل ہو گیا کہ وہ جو کبھی تعداد میں کم تھے وہ غالب اکثریت میں تبدیل ہو گئے اور وہ جو کبھی محکوم اور مظلوم تھے حاکم اور جابر بن گئے۔پھر کیوں آنحضرت صلی الیہ کم جو نبیوں کے سرتاج اور سردار اور خاتم المرسلین ہیں آپ کی تائید میں عذاب الہی نے وہ معجزات نہ دکھائے کہ جو گزشتہ انبیاء کی تائید میں دکھا چکا تھا اور کیوں آج تک آپ کو اپنے مخالفین پر اتنا غلبہ بھی نصیب نہیں ہو سکا جتنا حضرت عیسی کے ماننے والوں کو واقعہ صلیب کے چند سو سال کے اندر نصیب ہو گیا ؟ اس کے جواب میں پہلا قابل توجہ امر یہ ہے کہ قرآن کریم نے کہیں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ عذاب الہی کا مقصد بلا استثناء ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے کہ مخالف قوم کلیۂ مٹا دی جائے اگر چہ قرآن کریم بعض ایسی قوموں کا ذکر بھی کرتا ہے جن کے متعلق یہی فیصلہ ہو چکا تھا کہ ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے لیکن قاعدہ کلیہ کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ہاں اگر قاعدہ کلیہ ہے تو صرف یہ کہ عذاب الہی کے نتیجہ میں انبیاء کی جماعتوں کو اپنے مخالفین کی جماعتوں پر لازماً غلبہ نصیب ہو جاتا ہے۔بعض اوقات اس غلبہ کے بعد مخالف قوم کا ایک حصہ باقی رکھا جاتا ہے اور اس کے باقی رکھے جانے میں بھی ایک عذاب کا پہلو ملتا ہے۔دنیا میں متعدد ایسی خانہ بدوش اور بادیہ پیما قو میں ملتی ہیں جو سخت ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کر رہی ہیں اگر ان کی تاریخ کا تتبع کیا جائے تو بعید نہیں کہ اس خطہ زمین کے کسی صاحب جلال نبی کے انکار کے نتیجہ میں ان کے ابتدائی مولد و مسکن پر لعنت کی گئی اور وہ اس قوم کے لئے عبرت کا نشان بن کر پیچھے چھوڑ دی گئی ہوں۔لیکن یہ کوئی تحقیق شدہ مسئلہ نہیں محض ایک امکان ہے جہاں تک ٹھوس تاریخی حقائق کا تعلق ہے قرآن کریم اس ضمن میں یہود کی مثال پیش کرتا ہے۔چنانچہ یہود کا باقی رکھے جانا اس طرز عذاب کی ایک مثال ہے اور قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق ان کی ذلت اور رسوائی کی کہانی کو قیامت تک زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔قرآن کریم اس ضمن میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو پہلے ہی سے یہ خبر دے دی تھی کہ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ۔(سورة آل عمران : ۵۲) 34